غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
مغربی صاحب قلم لکھتے ہیں : کوفے میں آ پ کی تقریر گواھی دیتی ہے کہ وہ سارے مصائب و آلام ان کی توانائی کو سست نہ کر سکے جب کہ اس بات کا پورا پورا امکان تھا کہ تقریر کے درمیان ہی انھیں شھید کر دیا جائے ۔
حضرت زینب سلام اللہ عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں یوں گویا ہوئیں، خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول (ص) کے ذریعہ ہمیں عزت بخشی اور گناہ سے دور رکھا، رسوا تو صرف فاسق ہوتے ہیں، جھوٹ تو صرف (تجھ جیسے ابن زیاد کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنی دلیری کا یوں مظاہرہ کیا) بدکار بولتے ہیں، الحمدللہ کہ ہم بدکار نہیں ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا شجرہ نبوت اور معدن رسالت سے ہیں:
اہل سنت کی معتبر کتابوں میں بارہ اما م خصوصاً امام مہدی ارواحنا لہ الفداء عجل اللہ عرجہ الشریف کے اوصاف کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں،یہاں تک کہ ان احادیث کی وجہ سے بعض علمائے اہل سنت نے اپنی اپنی کتابوں میں آخری امام کیلئے ایک مستقل فصل قرار دی ہے.
اس جنگ میں ایران اکیلا نہیں، یہ میڈیا کی چال ہے کہ ایران کو تنہاء دکھائے۔ اس وقت دنیا میں ایران، مقاومتی بلاک کا قطب ہے۔
"جیمز جارج جیٹرز" جو کہ امریکی سینیٹ کے سابق مشیروں میں سے ایک ہیں، کہتے ہیں: "اسرائیل اور سعودی عرب ایران کی علاقائی طاقت کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور انکا ایک حل ایران کو تقسیم کرنا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔
جنابِ زھرا سلام اللہ علیہا وہ ہستی ہیں جن کی عظمت کا پتہ عام انسان کے بس میں نہیں ۔ علماء و فقہاء حتی کہ غیرمسلم دانشور بھی یہی کہتے ہیں کے جنابِ زھرا سلام اللہ علیہا کی حقیقت تک پہنچنا عام بشر کے بس میں نہیں ۔ان ایام میں ہمیں موقعہ مل رہا ہے کے ہم جناب زھرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے کچھ سیکھیں۔ کچھ معرفت حاصل کر لیں۔
مولانا سید صفدر حسین نجفی 1932ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے اور 3 دسمبر 1989ء کو لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔ بظاہر یہ ایک مختصر سی زندگی ہے، لیکن ان کے کاموں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ایک شخص کو جوانی کے دو سو سال ملے ہیں اور اس نے ان میں خوب کام کیا ہے۔
امام زمانہؑ کا بدن اور جسم اس طرح سے مخفی ہو کہ آپ لوگوں کے درمیان ہوں لیکن ان کا بدن شریف دیکھا نہ جانا ایک غیر عادی اور معجزانہ امر ہے اور معجزہ بذات خود جہاں طبیعت میں عادی اور جاری قانوں کے خلاف ہے اور الہی ارادہ اس طرح استوار ہے کہ تمام امور عادی اور طبعیی نظام پر جاری ہوں۔