لاہور میں استحکام پاکستان کانفرنس کا انعقاد،ایران پرا مریکی جارحیت کی مذمت و یکجہتی کا اظہار
























اجلاس میں ایشیا بھر سے 15 پارلیمانی وفود شریک ہوئے ، جن میں پاکستان آذربائیجان، بحرین، کمبوڈیا، چین، قبرص، لبنان، فلسطین،، قطر، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں
حوزہ ٹائمز|جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے تو گذشتہ ایک عشرے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کے دائرہ کار میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہوئی ہے۔ یہ امر شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے معرض وجود میں آنے اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے اس کے خلاف بھرپور فوجی مہم انجام پانے کے بعد زیادہ واضح طور پر قابل مشاہدہ ہے۔
حوزہ ٹائمز|اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ یمن گزشتہ کئی عشروں کی بدترین بھوک مری سے دوچار ہوا ہے۔
حوزہ ٹائمز|دنیا کی مظلوم ملت فلسطین کے ساتھ بین الاقوامی برادری نے بھی کیا عجب کھیل اور تماشہ لگا رکھا ہے ۔ ایک طرف یہی عالمی برادری امریکی سرپرستی میں صہیونیوں کے فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے.
حوزہ ٹائمز|علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب مرحوم معتدل شخصیت کے حامل تھے، لوگوں کو جوڑنے والے تھے، پاکستان کے سب علماء سے ان کا رابطہ تھا۔
حوزہ ٹائمز|بزرگ عالم دین اور سربراہ جامعۃ الکوثر اسلام آباد مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی نے فرمایا کہ قاضی صاحب کی وفات سے قوم و ملت اور علمی حلقوں میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ ناقابل جبران ہے۔
حوزہ ٹائمز|مولانا ڈاکٹر ابولخیز زبیر نے کہا کہ ہم ان کی کمی شدت سے محسوس کر رہے ہیں، بالخصوص ملی یکجہتی کونسل کے اہم قائدین میں سے تھے، ان کے مشورے اہمیت کے حامل ہوتے تھے.
حوزہ ٹائمز|حجۃ السلام والمسلمین سید مرید حسین نقوی نے ڈنمارک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب نے پوری زندگی علوم آل محمدؑ کی تحصیل و ترویج اور اس مکتب اور اس ملت کی خدمت میں گزاری۔ آپ کی زندگی کے چھ ادوار ہیں ۔
حوزہ ٹائمز|حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے قم مقدسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم و مغفور علامہ سید قاضی نیاز حسین نقوی کی برکات پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھیں۔ قاضی صاحب محسن ملت کے مدارس کو سنبھال رہے تھے.
حوزہ ٹائمز| حضرت آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی سے پاکستان کے پارلیمانی الیکشن 2018 پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان کے شہریوں کا الیکشن میں شرکت کرنا اچھا کام ہے ۔