لاہور میں استحکام پاکستان کانفرنس کا انعقاد،ایران پرا مریکی جارحیت کی مذمت و یکجہتی کا اظہار
























اجلاس میں ایشیا بھر سے 15 پارلیمانی وفود شریک ہوئے ، جن میں پاکستان آذربائیجان، بحرین، کمبوڈیا، چین، قبرص، لبنان، فلسطین،، قطر، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے واضح کیاہے کہ ملت جعفریہ ہرگز اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہ کرے گی ۔جبکہ شیعہ عقائد کونظر انداز کر کے کوئی نصاب مسلّط نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا تمام طبقات کے لئے ”یکساں نصاب“ اچھا اقدام ہے لیکن متعصب افراد نے اسے متنازعہ بنا دیا۔
حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر لاہور کے سینیئر مدرس ، بزرگ عالم دین مولانا سید خادم حسین نقوی صاحب بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے شیعہ علماءکونسل کے وفد نے حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیرحسن میثمی کی قیادت میں ملاقات کی۔
وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے زیر اہتمام ضمنی امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ نتائج الشہادۃ […]
شعبہ امتحانات کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق داخلہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 25 فروری 2022ہے۔
پوری تاریخ میں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے میں انبیاء علیہم السلام کا کردار ناقابل تردید رہا ہے۔ انبیاء میں سے ہر ایک نے ان تعالیم اور بہت سی دوسری تعلیمات کی مدد سے انسانی معاشرے کے ایک بڑے حصے میں اتحاد و وحدت کو ایجاد کیا ہے۔
کورونا ویکسین کی تیسری خوراک لینے کے بعد آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے کہاکہ لوگوں کو اس بات پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ جسم کی صحت کو برقراررکھنا نماز جیسے فرائض میں سے ایک ہے۔
کتاب میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی حالت زندگی،عہدے اور مختلف شخصیات کے ان کے بارے میں تاثرات سمیت پاکستانی اور ایرانی مدارس میں علمی و ثقافتی اور دینی خدمات اور سرگرمیاں شامل ہیں۔
سید حسن نقوی:پاکستان سے ہم نے تقریباً 20 طلاب کو داخلہ دیا اور تقریباً 1393 شمسی میں باقاعدہ افتتاح ہوا اور یہاں کلاسس شروع ہوئیں۔ہر سال ہم تقریباً 20 ، 25 طلاب کو پاکستان سے باقاعدہ طور پر امتحان لے کر داخلہ دیتے ہیں اور یہاں سے ابھی تک تقریباً 35، 40 طلاب فارغ التحصیل ہوئے ہیں چونکہ کارشناسی کے بعد یہاں ارشد کا کوئی سسٹم موجود نہ تھا لذا طلاب دوسرے مدارس میں ارشد کیلئے چلے جاتے ہیں اور اس طرح ہر سال تقریباً 10 سے 15 طلاب ایم فل کے انٹری امتحانات میں شرکت کرتے ہیں اور بہترین انداز میں یہاں سے کامیاب ہوکر فارغ ہوجاتے تھے اور ابھی ہمیں ایم فل کی کلاسز شروع کرنے کا موقع ملا ہے۔