صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
معلم قرآن امیرالمؤمنینؑ نے کمال انسانیت کے یہ دو نسخے یعنی سیرت نبیؐ اور تعلیم کتاب ہمیں بتا دئے۔ اس راہنمائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان کمال کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔
امیرالمؤمنینؑ یہاں دنیا سے بے تحاشا محبت کے نقصانات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ گویا بےتحاشا محبت آنکھوں کو اندھا اوردل کو صحیح سوچ سے محروم کر دیتا ہے۔
ابتدائ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1967میں مدرسہ باب النجف جاڑا ڈیرہ اسماعیل خان میں داخل ہوگئے اور استاذالعلماء علامہ غلام حسن نجفی صاحب قبلہ مرحوم اعلی اللہ مقامہ سے دینی تعلیم حاصل کی اور 1971 میں فاصل عربی کا امتحان پاس کیا
امیرالمؤمنینؑ یہاں انسان کو ایک فریضے کے طور پر یاد دلا رہے ہیں کہ کوئی شخص جہالت و نادانی کی وجہ سے یا غفلت کی بنا پر غلطی کر رہا ہے تو آپ یہ مت سوچیں کہ مجھے کیا ہے بلکہ اسے سمجھانا بھی آپ کی ایک ذمہ داری ہے
انسان دُنیا میں اپنے راستوں کو روشن کرنے کے لیے چراغ جلاتا ہے۔ یہ چراغ اسے تاریکیوں سے نجات دیتے ہیں
انسان جب اپنی قدر و منزلت کو بھلا دیتا ہے تو یہ اس کی نادانی کی انتہا ہوتی ہے۔ وہ اپنے مقام کو بھلا کر بہت کچھ ایجاد کرنے میں تو مشغول رہتا ہے مگر انسانیت کھو دیتا ہے
اس فرمان میں عیال کےلفظ سےایک طرف مخلوق سے اللہ کی محبت و رحمانیت کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف آپؑ کے اس فرمان کہ “ اللہ نے سب کا رزق اپنے ذمہ لیا ہے اور سب کی روزی مقرر کر رکھی ہے” سے اللہ سبحانہ کا مخلوق کے لیے کفیل ہونا ثابت ہے
سچ یعنی حقیقت و واقعیت کے مطابق بات یا عمل کرنا اورجھوٹ یعنی حقیقت و واقعیت کے خلاف بات یا عمل کرنا
اس فرمان میں امیرالمؤمنینؑ نے محبوب خدا کی ایک نشانی یہ بیان فرمائی ہےکہ وہ مقصد اور مشن پر یوں پختہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا یقین سورج جیسی چمک دمک رکھتا ہے