یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
امیر المومنین حضرت علی ؑ کے یوم شہادت کے موقع پر آئیے اپنے افکار و اعمال کی روشنی میں جائزہ لیں کہ ہم اپنی زندگی میں حضرت علی ؑ کی کتنی اطاعت کر رہے ہیں
روایت میں آیاہے کہ کسی نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر مجھے شب قدر کا موقع ملے تو میں خدا سے کیا مانگوں؟ آپ نے فرمایا: کہ خدا سے صحت و عافیت مانگو۔
ایک چیز جو ماہ رمضان میں اس ماہ کو مہدوی رنگ دیتی ہے وہ دعائے افتتاح ہے کہ جس کو ہر روز پڑھنے کا حکم ہے اور یہ دعا کہ جس کو روز پڑھنے کا حکم ہے۔
اللہ تعالی نے دین اسلام کو انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا اور ان کی ترقی اور پیشرفت کے ضروری تمام وسائل فراہم کیے […]
علیم کے میدان میں آپ اولین میں سے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کو فقط تعلیم کیلئے وقف کر دیا تھا۔ راقم نے آپکی خدمت میں عرض کی کہ آپکو صحت کے حوالے سے کام کرنا چاہیئے۔
آپ کا تعلق کارگل و بلتستان کے سنگم پر واقع ضلع کھرمنگ کے گاؤں برولمو سے تھا۔ آپ کے والد آیت اللہ شیخ علی نجفی برولمو اپنے زمانے کے جید عالم دین اور لوگوں کے روحانی پیشوا تھے جن کی دینی و معنوی خدمات آج تک زبان زد عام ہیں۔
اسلامی معاشروں میں مختلف آداب اور رسومات جیسے اجتماعی تقریبات، مساجد اور مذہبی مقامات کی صفائی، مفاہمت کی تقریبات، اور رمضان کے لیے مختلف قسم کی میٹھائی اور کھانے پکانے کی شکل اختیار کی گئی ہے۔
اثارۂ قرآن کا مفہوم درحقیقت قلوب و اذہان میں ایک انقلاب بپا کرنے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس طرح انقلاب ایک معاشرتی یا فکری تحریک کو مہمیز دیتا ہے، اسی طرح قرآن کو اثارہ کرنے سے دلوں میں معرفت کے سوتے پھوٹتے ہیں، انسانی سوچ کی راہیں روشن ہوتی ہیں اور روحانی بصیرت ایک نئی جہت اختیار کرتی ہے۔
سید حسن نصراللہ کی شخصیت اور قیادت نے انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا، جو ہر لحاظ سے کامل تھے۔ ان کی شجاعت، رحم دلی، عقلانیت، جذابیت، وحدت، اصول کی پاسداری، قیادت، اور فداکاری نے انہیں تاریخ کے عظیم رہنماؤں میں شامل کر دیا ہے