غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
ساری انسانیت اور ساری مخلوقات کی تخلیق کا منصوبہ اعلیٰ ترین اور کامل ترین مرد اور عورت کی تخلیق اور ظہور کے بغیر متصور نہیں۔ یہ جو قرآن حکیم میں ہے کہ ہر چیز انسان کے لیے مسخر کی گئی ہے۔
گفتگو کا موضوع امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت ھے، اس سے پہلے ھم نے احادیث اور روایات کی رو سے غیبت کی تاریخ بیان کی ھے، کہ اللّٰہ کی طرف سے بہت سارے انبیاء مختلف مصلحتوں کی وجہ سے غائب ھوتے رھے ھیں ۔ آج یہ کہ امام زمان علیہ السلام کی غیبت کو کس طرح بیان کیا گیا اور یہ کتنے مراحل رکھتی ھے اس پہ گفتگو کریں گے ۔
بطورِ مثال یہ ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے:۔ ایک مرتبہ شہید نے شام جانا تھا۔ شہید کے مرتب کردہ شیڈول کے خلاف ایک شہید کی والدہ قاسم سلیمانی سے ملنے آگئی۔ پرواز میں صرف تیس منٹ باقی تھے۔ یقیناً شہید ایک عظیم ہدف کیلئے روانہ ہو رہے تھے۔ پندرہ منٹ کے بعد جناب قاسم سلیمانی کے دوست نے ان سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو جہاز کی پرواز پندرہ منٹ لیٹ کروا دیں۔ آپ نے پوچھا کہ جہاز میں کتنے لوگ سوار ہونگے؟
موریس سائین کی تنقید یہودیت کے خلاف نہیں تھی اور اس نے کسی بھی طرح سے یہودی مذہب کی توہین نہیں کی تھی، لیکن صرف یہودیت کا حوالہ دینا ہی اس کے لیے کافی تھا، لیکن اس پر مذہب سے دشمنی کا الزام لگا کر اسے عدالتی حکام کے حوالے کرکے نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ اس وقت چارلی ہیبڈو میگزین نے اپنے ملازم کا دفاع نہیں کیا اور "آزادی اظہار" کے جھوٹ سے اپنے کام کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔
شہادت مکتب اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے لئے ایک خدائی ہدایت یا الہام کا درجہ رکھتی ہے۔ شہید اس الہام کے ساتھ جنم لیتا ہے، اس کے وجود کی مٹی اسی الہامی خوشبو میں رچی بسی ہوتی ہے۔ بحیثیت مجاہد حاج قاسم شہادت کی آرزو رکھتے تھے۔ وہ رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے ماتحت اور دستِ راست تھے، لیکن ان دونوں کے درمیان ایک خاص روحانی ربط تھا۔ اس ربط کو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی حاج قاسم کے بارے میں دی گئی مختلف آراء کی روشنی میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔
آپ ملک العلماء کے خطاب سے لکھے پہچانے جاتے ہیں اور دور حاضر کے بزرگ علم دین ہیں
شہید قاسم سلیمانی دنیا بھر سے ہزاروں جوانوں کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان جوانوں نے ان کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ان کی تعلیمات کو عملی شکل عطا کی۔ وہ ان تمام جوانوں کے رہبر اور رول ماڈل تھے۔ شہید قاسم سلیمانی ایک شجاع ہیرو اور عظیم لیڈر تھے
سارا محل نیند میں مدہوش تھا اور یہ دونوں گپ شپ میں مصروف ہوگئے۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد بادشاہ کے محل کی چھت پر چھپے ہوئے شخص (دانشور کے دوست) نے محل کی چھت سے تانبے کے برتن اور دیگیں نیچے پھینکنا شروع کر دیں۔ برتنوں کے گرنے کا شور محل کے در و دیوار سے ٹکرانے لگا۔ اچانک محل سرا کے مقیم بھی ڈر کر چیخ اُٹھے۔ چیخوں سے قیامت خیز شور و غل بلند ہوا۔ سب پہرے دار، ملازم اور دیگر محل نشین یا تو بھاگ گئے اور یا پھر بوکھلا کر کہیں نہ کہیں چھپ گئے۔
یہ واقعہ کیا تھا اور تاریخ کیوں بن گیا؟ 1388 شمسی بطابق 2009ء ایران کے اسلامی انقلاب کی تاریخ کے چند مشکل لمحات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ دسویں صدارتی انتخابات کے دوران امیدواروں کے سنجیدہ اور شفاف مقابلے نیز عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت نے سیاسی نظام پر لوگوں کے اعتماد میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ کی عزت و وقار کو سربلندی ملی۔