غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
لَـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ خداوند ہم پر واضح کر رہا ہے کہ کائنات میں وہ ہستی جو ہر جگہ پر موجود ہے اور یہ کائنات ہر ہر لحظہ میں اس ہستی سے وابستہ ہے اور وہ اس کائنات کی روح و جان ہے اور پروردگار عالم ہی سب سے برتر ہے۔
۔ وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں خلق کیا پھر عرش پر مستقر ہوا اللہ کے علم میں ہے جو کچھ زمین کے اندر جاتا ہے اور جو کچھ اس سے باہر نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے، تم جہاں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس پر خوب نگاہ رکھنے والا ہے۔
ان اہم عبادات میں سے ایک روزہ ہے جو انسان کو خودسازی، تزکیہ نفس اور باطنی پاکیزگی میں مدد دیتی ہیں۔ روزہ کی برکت سے انسان اپنے سرکش نفس کو لگام دینے کے قابل ہو جاتا ہے اور اپنی شہوت اور نفسانی خواہشات سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ روزے کے ذریعے انسان نفس امارہ کی ناجائز اور نامعقول خواہشات پر قابو پا سکتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: "روزہ نفسانی خواہشات کو کمزور کر دیتا ہے”۔
اس وقت سعودی عرب کی آرامکو تیل تنصیبات میزائل حملوں کا نشانہ بن چکی تھی اور اس کا الزام ایران پر عائد کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ ایران نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کا انکار کیا تھا۔
اس آیت میں پروردگار عالم کی جو صفات بیان ہوئیں بظاہر متضاد ہیں۔ ہم انسانوں میں پہلا انسان آخر نہیں ہوتا اور جو ظاہر ہے وہ باطن نہیں ہوتا لیکن پروردگار عالم کی ذات لامحدود ہے اور وہاں یہ متضاد صفات جمع ہو سکتی ہیں پھر بھی ان صفات سے کیا مراد ہے اور اس کے بارے میں محمدؐ و آل محمدؐ کیا فرماتے ہیں ۔
پروردگار کی قدرت و حکومت ، اللہ کی عظیم صفات ، حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کو عطا کی گئی ایک دعا،مہدوی پیغامات، عقیدہ توحید کی پختگی، اللہ تعالیٰ سے حقیقی زندگی اور اعلی موت طلب کریں ، امام زمانہ عج کے ظہور میں خدمت کے لیے طاقت مانگنا۔_
اس سورہ کے بارے میں سید سجاد ؑ فرماتے ہیں: _" اللہ چونکہ جانتا تھا کہ آخر الزمان میں ایک گروہ آئے گا جو عقل کے اعتبار سے نہایت عمیق اور ظریف ہونگے۔ اسی لیے پروردگار عالم نے سورہ توحید اور سورہ حدید کی چند آیات نازل کیں تاکہ وہ لوگ بہتر طور سے پروردگار عالم کی معرفت حاصل کریں اور اگر کوئی ان صفات سے ہٹ کر پروردگار کی معرفت حاصل کرنا چاہے گا تو وہ ہلاک ہو جائے گا"۔_
گذشتہ دس ماہ میں موجودہ حکمرانوں نے ملک کا جو ستیاناس کیا ہے اور غیر ملکی آقائوں کو راضی کرنے کیلئے جس طرح کے اقدامات اٹھائے ہیں، اسکے بعد سوشل میڈیا پر طاقت کے اصل مراکز سمجھے جانے والوں کو کھلی تنقید کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔
عصر جاہلیت کی موت مراد ہے ۔ ایسی جہالت جس میں شرک و بت پرستی ، وہم و گمان، اسلامی تہذیب سے دوری، برے کام اور اصل و حقیقی تعلیمات سے دور ی ہے