غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
درجہ اول صدیق صدیق وہ ہے جس کا دل ، زبان اور عمل ایک ہو جو سچائی پر مشتمل ہو۔ صداقت ہمیشہ انسان کے اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن مجید یہ لقب مختلف انبیاءؑ کے بارے میں بھی بیان کرتا ہے۔ جیسے حضرت ادریس، حضرت ابراھیم، حضرت یوسف، اور حضرت مریمؑ جن کو قرآن مجید نے صدیق کہا۔
یہ زندگی ہےجو ہوا، پانی کے ذریعے زمین پر قائم ہے، یہاں تک کہ زمین کے اندر بھی بہت کچھ ہے۔ کچھ چیزیں جو نظر بھی نہیں آسکتی اور خاص آلات کی مدد سے دیکھی جا سکتی ہیں وہ بھی موجود ہیں۔ یعنی اس کائنات کے اندر زندگی فقط زمین پر ہے۔
منافقین بظاہر تو اہل اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ شریک ہوتے تھے لیکن اندر سے منکر تھے۔ اسی بنا منافقین جہنم میں بلند آواز میں پکاریں گے کہ کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے یعنی نماز جہاد ہر چیز میں حصہ لیتے تھے لیکن آج کیا ہوا کہ تم آسائش اور رحمتوں میں ہو اور ہم عذاب میں ہیں۔
بعض نے کہا ہے کہ پیغمبرؐ اور خدیجہؑ کے فرزندوں کی تعداد میں اختلاف کی وجہ ان کے نام اور لقب کا آپس میں مل جانا ہے۔ اس نظر کے مطابق پیغمبرؐ اور خدیجہؑ کے فرزندوں کی تعداد 6 ہیں دو بیٹے قاسم اور عبداللہ، چار بیٹیاں زینب، رقیہ، ام کلثوم، اور فاطمہؑ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں بیان فرما رہا ہے کہ روز قیامت جو لوگ منافق ہونگے جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اندر سے دشمن اسلام ہیں۔ ان کا روز قیامت کیا عالم ہو گا۔
پروردگار اہل ایمان مرد و زن کے اجر عظیم کا ذکر کر رہا ہے کہ روز محشر سب دیکھیں گے کہ جو اہل ایمان مرد و زن ہیں کہ ان سامنے اور ان کے دائیں جانب نور دوڑ رہا ہوگا، یہ نور کیا ہے؟
اس قرآنی بہار میں ہر روز ایک آیت کا انتخاب کریں اور افطار کے وقت تک وقفے وقفے سے اسکی تلاوت کریں اور اس کے مفاھیم میں گہرائی سے تدبر کریں
خدا کو قرض دینے سے مراد اللہ کی راہ میں انفاق ہے۔ یعنی وہ لوگ جو مجبور ہیں اپنے مسائل کا شکار ہیں۔ یعنی غریب مسکین، یتیم ، بے مکان، اور ایسے افراد جو کسی مرض میں مبتلا ہیں پہلے کماتے تھے لیکن اب وہ مرض کی وجہ سے کما نہیں سکتے۔ اور کوئی کمانے والا بھی نہیں یا پھر مر چکے ہیں اور یتیم بچے ہیں ۔ یا پھر کوئی کاروباری نقصان کا شکار ہو چکا ہے۔
لفظ رؤف و رحیم مہربانی اور پرودرگار کی بخشش کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ جو کچھ بھی انفاق ہم کر رہے ہیں اور ایمان لا رہے ہیں یہ سب خدا کا لطف ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت کے راستے دکھائے ۔