غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
آپ کو مسٹر ٹرمپ کا دورہ ریاض تو یاد ہوگا۔ یہ مئی 2017ء کا واقعہ ہے۔ اس دورے پر سعودی عرب کے 68 ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ ایران کے خلاف کوئی فیصلہ کُن معرکہ ہے۔ ٹرمپ کی تقریر تو کئی دنوں تک ذرائع ابلاغ پر چھائی رہی۔ ذرائع ابلاغ نے ماحول ایسا بنا دیا تھا کہ بس ایران کو کچھ ہوا کہ ہوا۔ اب جو لوگ حالات حاضرہ پر نظر رکھتے ہیں، اُن سے پوچھ لیجئے۔ وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ اس دورے کے بعد دنیا میں سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں شدید بحران نہیں بلکہ بھونچال آیا۔
21 اگست 2019ء کو دنیا میں ایک بھونچال سا آیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای نے ایران کے صدر اور دیگر کابینہ ارکان کے ساتھ اہم ملاقات میں ببانگِ دُہل یہ کہا کہ "ہندوستانی حکومت کشمیری مسلمانوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رہے۔"
حضرت فاطمہؑ کا یہ چھوٹا سا گھر اور اس گھر سے تربیت پانے والے افراد جو تعداد کے اعتبار سے تو چار پانچ افراد ہی تھے لیکن حقیقت میں خدا کی تمام قدرت ان میں متجلی تھی
عبادت کے مخصوص اوقات: جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں عبادت و دعا کے لئے کچھ مخصوص اوقات خاص اہمیت کے حامل تھے۔ چنانچہ شب جمعہ، عصر جمعہ اور جمعے کے دن غروب آفتاب کا وقت جناب سیدہ کی عبادت و دعا کے خاص اوقات میں شامل تھے۔اسی طرح سحر خیزی اور شب قدر کے ایام میں بھی دعا و مناجات کا خصوصی اہتمام فرماتی تھیں اور اپنے گھر والوں کو بھی ان اوقات میں عبادت کے لئے آمادہ کرتی تھیں۔
بی بی دوعالم کی نظر میں امام کا تصور سیدہ نساء العالمین نے امام کی مفہومی وضاحت کی بجائے، اس کی عینی صفات پر روشنی ڈالی ہے تاکہ عملی اور مصداقی شکل میں امام کا تصور عیاں ہو جائے۔ اس بیان سے بی بی کے نزدیک امامت کا تصور اور اس کی صفات نہایت شفاف انداز میں سامنے آجاتی ہیں کیونکہ آپ نے امامت کی عملی تصویر کو سامنے رکھ کر اس کی صفات کا تذکرہ کیا ہے، جس کے مطابق امام ان صفات کا حامل انسان ہوتا ہے۔
محسن ملت ان چند آگاہ افراد میں سے تھے جنہوں نے امام خمینیؒ کی اس وقت تقلید کی جب کہ ان کا اس علاقہ میں تعارف بھی نہیں تھا۔ اس دوران انہوں نے امام خمینی کی توضیع المسائل اور حکومت اسلامی کا ترجمہ کرکے شائع کرایا۔
شادی کی تقریبات میں سادگی شادی کی تقریبات میں اتنا زیادہ تصنع اور دکھاوا آ گیا ہے کہ غریب آدمی کے لیے شادی ایک خوفناک امر بن چکا ہے پہلے بات لاکھوں تک تھی اور اب ملینز میں چلی گئی ہے۔اس سے معاشرے میں شادی مشکل ہوئی اور جنسی جرائم آسان ہو گئے، ساتھ ساتھ شادی کے لیے وسائل ہر صورت میں فراہم کرنے ہیں تو قرض اور بعض اوقات چوری کی نوبت آ پہنچتی ہے۔حضرت فاطمہ ؑ کی شادی کی تقریبات کو مشعل راہ بنایا جائے تو معاملہ آسان ہو جائے گا روایات میں ہے:
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف طرح طرح کا پراپیگنڈا جاری تھا، انھوں نے اس کے دفاع میں رسائل لکھے اور لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنی مجالس میں بھی امام خمینیؒ کا ذکر کرتے اور انقلاب کی حمایت مختلف انداز سے جاری رکھتے
اگر کوئی عورت یہ چاہتی ہے کہ اس کا گھر پر امن رہے اور بچے بہترین تربیت حاصل کریں اور شوہر کے ساتھ بہترین تعلقات بھی قائم رہیں تو اس کو چاہیئے کہ اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے ہر بات پر اس کا مقابلہ نہ کرے ہر مسئلہ کو متنازعہ نہ بنائے اور شوہر کے ساتھ نرم لہجہ تواضع اور انکساری کا اظہار کرے۔