صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
قم میں موجود معروف پاکستانی دینی درسگاہ مدرسہ الامام المنتظر کے شعبہ ثقافت کے زیر اہتمام طلاب کے درمیان آج یوم ولادت حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی مناسبت سے تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مدرسے کے طالبعلموں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مدرسه الامام المنتظر (عج) کے سرپرست حجة الاسلام والمسلمین سید محمد حسن نقوی نے افکار اسلامی کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے مدرسہ میں درس نہج البلاغہ سمیت مختلف امور میں اپنے تعاون کا یقین دلایا اور اپنے مدرسہ میں جاری دروس اخلاق میں سے ہر مہینہ ایک درس کو "اخلاق در نہج البلاغہ" سے مختص کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان،ہندوستان اور دیگر ممالک کے اردو زبان زائرین کے لئے بھی حرم مطہر رضوی کے رواق کوثر میں جشن کا انعقاد کیا گیا جس میں اردو زبان زائرین نے بھرپور شرکت کی ۔
قرآن یونٹ کی سربراہ فاطمہ سید عباس الموسوی نے الکفیل نیٹ ورک کو بتایا: "اس تقریب کا انعقاد ہماری یونٹ کی ہفتہ وارسرگرمیوں کا تسلسل ہے جو روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے سردآب میں منعقد کی جاتی ہیں۔ تقریب میں خواتین زائرین اور روضہ مبارک کے متععد شعبہ جات سے وابستہ خواتین نے شرکت کی۔"
اس سربلندی اور کامیابی پر بسیج روحانیون آی-کے-ایم-ٹی نے پوزیشن حاصل کرنے والی عزیز طالبات اور ان کے والدین محترم اور اہالیان دراس، باغ خمینی، شلکچے اور دارالقرآن کے تمام اساتذہ کرام، طلاب و طالبات، بالخصوص مکتب میں محنت کش کمیٹی ممبران کی خدمت میں مبارکباد پیش کیا ہے۔
اسلامی انقلاب کے تناور درخت نے آج اپنی تینتالیسویں بہار کا جشن منایا۔ اس موقع ملک بھر میں عظیم الشان ریلیوں کا اہتمام کیا گیا جس میں عوام نے لاکھوں کی تعداد میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
دمشق یونیورسٹی کے فلسطینی استاد محمد بحیصی کا کہنا تھا کہ '' یہ انقلاب مظلوم ملتوں کی امید ہے، ہم فلسطین میں اسلامی جمہوری ایران کے عوام، حکومت اور رہبری (ولایت فقیہ) کی قدر کرتے ہیں، ہم نے آزادی اور مزاحمت مکتب امام خمینی (رہ) سے سیکھی۔''
21 بہمن مطابق 11 فروری 1979 کی تاریخ ساز شب کہ جب بانی انقلاب کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے ایران کی انقلابی قوم نے رات اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ گزاری اور 22 بہمن کی صبح طلوع ہوئی تو سرزمین ایران سے 2500 سالہ شہنشاہیت کی بساط ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پلٹی جاچکی تھی۔
اطلاعات کے مطابق کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی کے خلاف مسلمان طالبات کی درخواست پرسپریم کورٹ نے کیس میں مداخلت سے انکارکردیا۔