یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























سکردو میں نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ و الجماعت نے کہا کہ اگر عام معافی کا اعلان کیا جاتا ہے تو بلتستان میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور عوام و مسلح افواج کے درمیان موجود خلیج ختم ہو جائے گی اور بلتستان گلستان بن جائیگا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان شعبہ قم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقد ہونیوالی علماء و ذاکرین کانفرنس ملت کے داخلی اتحاد کی علمبردار ہوگی، یہ کانفرنس عزاداری سیدالشہداء کے بامقصد فروغ کی مظہر، تکفیری قوتوں پر کاری ضرب اور ظہور حضرت قائم (عج) کی جانب ایک عملی اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تسلسل کیساتھ تشیع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کانفرنس کے ذریعے یہ پیغام دینگے کہ تشیع کیخلاف قدغنیں اور رکاوٹیں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی، قوم اپنے بزرگ علماء کی کسی بھی کال کیلئے آمادہ رہے۔ پاکستان کو تکفیریوں اور ناصبیوں کے حوالے نہیں ہونے دینگے، یہ اجتماع پوری ملت کو گائیڈ لائن فراہم کرے گا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ محرم الحرام کے ہرامن و پروقار انعقاد کو یقینی بنانے ہر پاک فوج، پولیس، سول سوسائٹی، تمام مکاتب فکر کے علماء کرام سمیت میڈیا کا کردار لائق تحسین رہا
علماء و ذاکرین کانفرنس 23 ستمبر بروز جمعرات جامعہ امام صادق علیہ السلام جی نائن کراچی کمپنی اسلام آباد میں منعقد ہوگا.
جامعۃ الکوثر کے ایک وفد نے راجن پور میں منعقدہ حضرت علامہ شیخ محمد علی فاضل رح کی مجلس سوئم میں شرکت کی، مجلس کی ابتدا میں مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی گئی جس کے بعد مقامی علماء نے مرحوم کو ان کی مذہبی و دینی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا
تصنیف ،تحریر،ترجمه کا ایک علمی سفر اپنے اختتام کو پہنچا، حجت الاسلام علامہ محمد علی فاضل کے تحریری خدمات
اس موقع پر دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور کہا گیا کے عزاداری سید الشہداء کے حوالے سے کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے، جھوٹی آیف آئی آرز اور شیڈول فور ناقابلِ قبول ہے، متعصبانہ رویئے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایران سید ابراہیم رئیسی نے ایران اور عراق کے تعلقات کو انتہائی دوستانہ اور برادرانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں دونوں ملکوں کے تعلقات کے فروغ کی بے پناہ گنجائشیں موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے ایک ٹوئيٹر بیان میں افغانستان کے 6 ہمسایہ ممالک کے وزراء خارجہ کے ورچوئل اجلاس کے بارے میں مختصر رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بین الافغان مذاکرات اور معاہدوں کی حمایت کرتا ہے۔