صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایران وزیر خارجہ، ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی، خلیج فارس کی تاریخ بیرونی جارح قوتوں کے عبرتناک انجام کی متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،
اس دوران 28 مئی کے دن علامہ شیخ محمد شفاء نجفی کو متعلقہ کمیٹی میں اپنا موقف منوانے کے لیے مشکلات پیش آئیں تو انہوں نے عقائد کے موضوع پرکسی قسم کی سودا بازی کرنے سے انکار کردیا۔ جس سے ماحول کشیدہ ہوا اور نوبت بائیکاٹ تک جا پہنچی۔ اس مرحلے پر علامہ شیخ محمد شفاء نجفی نے پہلے مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی اور پھر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے حالات سے آگاہ کیا اور رہنمائی لی۔
ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتیوں کے واقعات پر بات کرتے ہوئے عمران خان بولے کہ میں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے، ہمارے ہاں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہیں، لہذا اگر معاشرے میں بے راہ روی بہت بڑھ جائے گی اور نوجوانوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کی کوئی جگہ نہ ہو، تو اس کے معاشرے کے لیے مضمرات ہوں گے.
ایرانی عوام نے امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے آپکی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
امتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے ایران کے نومنتخب صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کو صدارتی انتخاب میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی فتح ایرانی قوم کے لئے حوصلہ افزا ہے۔
اپنے خطاب میں کہا کہ مدارس کو امریکہ اور یورپ کی خوشنودی کے لئے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مدارس اسلامی تہذیب کے مراکز ہیں، مدارس، مساجد اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نو منتخب ایرانی صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی وسیع تجربات رکھتے ہیں، امید ہے علاقائی تعاون اور رابطہ کاری کے لیے نئی راہیں ہموار ہوں گی۔
نصاب تعلیم پر حتمی فیصلہ جید علمائے کرام کی تجاویز و آراء کے بغیر جلدی بازی میں کرنا مشکلات کو دانستہ دعوت دینے کے مترادف ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ سزائے موت پانے والے شیعہ نوجوان پر 13 الزامات ہیں! قطیف کے مظاہروں میں درویش کی شرکت کو اس کا ایک الزام قرار دیا گیا ہے۔
آج صبح سات بجے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت تمام چھوٹے و بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں تیرہویں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایران میں 59 ملین 3 لاکھ 10 ہزار اور 307 افراد ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔