زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
آیت اللہ محمد حسین زابلی، آیت اللہ العظمیٰ خویی، آیت العظمی سیستانی، آیت اللہ العظمیٰ بھاءالدینی کے شاگرد تھے.
امام جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے ماہ محرم الحرام میں بڑے امام باڑے میں منعقد کی گئی مجلسوں کو لیکر انتظامیہ کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر اور عدالت میں داخل چارج شیٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بڑا امام باڑہ مذہبی مقام ہے ،یہاں ہمیشہ کی طرح مجلس منعقد ہوتی رہیں گی ۔اگر مجلسوں پر پابندی لگائی گئی تو ہم اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے اور کسی بھی طرح کے انجام کی پرواہ نہیں کریں گے.
اور دعا ہے کہ مرحوم محمد علی سدپارہ کو جوار ائمہ میں جگہ عنایت فرمائےاور لواحقین کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین
جامع مسجد سکردو میں نماز جمعہ کے خطبہ میں انجمن امامیہ کے صدر علامہ سید باقر الحسینی نے کہا کہ عزاداروں اور علماء کے خلاف کاٹی جانے والی ایف آئی آر کے خلاف شیعہ علماء کونسل اور دیگر تنظیموں کی جانب سے تحفظ عزا لانگ مارچ کی کامیابی پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اسلامی تحریک اور ایم ڈبلیو ایم کے علماء کو سلام پیش کرتے ہیں اسی طرح اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں تو یقیناً شیعہ ہمیشہ کامیاب رہیں گے۔
نماز جمعہ کے خطبہ میں آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا کہ اللہ کا کثرت سے ذکر درحقیقت قوت و طاقت کی علامت ہے۔جو شخص خدا کی طرف متوجہ رہتا ہے وہ گناہ، معصیت اور غلطیاں نہیں کرتاکیونکہ اسے علم ہے کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے خدا سے عرض کی کہ ہم تو تیرے سامنے ہیں اور ہماری ہر بات ہر حالت تیرے سامنے ہے۔ان دعاؤں کے جواب میں اللہ نے فرمایا یقینا آپ نے جو کچھ مانگایعنی آپ کی خواہشیں،دعائیں قبول کر لی گئیں۔
بلتستان کے معروف عالم دین، استاد حوزہ حجۃ الاسلام سید احمد رضوی نے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس خبر کو قومی ہیرو کے پرستاروں کے لیے صدمہ قرار دیا ہے۔
نوجوان کو آزادی کے نام پر مذھب اور دین سے دور کرنا چاہتا ہے ھماری ذمہ داری بنتی ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر میدان میں تیار اور آمادہ رہیں
انہوں نے کہا کہ سدپارہ قوم کے عظیم، بہادر اور نڈر سپوت تھے جو کوہ پیمائی کی دنیا میں وطن عزیز کے نام کو روشن کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے دیدہ دلیری کے ساتھ کےمنزل کے متلاشی رہے۔اس طرح کی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔
انکا مزید کہنا تھا ایسے قومی ہیروز صدیوں بعد جنم لیتے ہیں انکی اھلبیتؑ سے خصوصا محافظ شریعت حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی مثال آپ تھی انہوں نے امام کے فرمان پہ عمل کیا وطن سے محبت کا عملی نمونہ پیش کیا۔