دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے قائد محترم کے داماد سید عبدالحسین مھدی(سید تہذیب الحسن نقوی) سمیت دیگر مرحومین کی وفات پر تعزیت پیش کی اور فاتحہ خوانی کی۔
انہوں نے اپنی پدرانہ نصیحتوں میں منبر حسینی کی اہمیت اور خطباء کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی مزید توفیقات کے لئے بارگاہ ایزدی میں دعا کی۔
اس موقع پر پسماندگان، انکے عزیز و اقارب اور نقوی خاندان کی خدمت میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے عہدیداران تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے اللہ تعالی سے مرحوم کے بلندی درجات کی دعا کی۔
صیہونیت مخالف مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی و صیہونی میڈیا اور پروپیگنڈہ مراکز نے برسوں تک مسئلۂ فلسطین کو بھلا دیے جانے کے لیے کوشش کی لیکن طوفان الاقصیٰ اور غزہ کے عوام کی مزاحمت کے سائے میں آج فلسطین، دنیا کا پہلا مسئلہ ہے۔
امام خمینی کی بھرپور نظریاتی جدوجہد نے استحصالی اور سامراجی قوتوں کے خلاف تیسری دنیا کی محروم اقوام بالخصوص امت مسلمہ کو مزاحمت کا ایک نیا شعور، ولولہ اور عزم عطا کیا۔
ہمیں حکومت اور اسلامی نظام کے سب خدمت گزاروں کے لیے دعا کرنی چاہیے اور آپس میں امن و آشتی اور محبت کے ساتھ رہنا چاہیے۔
مذہب شیعہ کی حقانیت کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ ہم جن ہستیوں کو مانتے ہیں وہ کسی کے شاگرد نہیں۔
میٹنگ میں اہل سنت و شیعہ علماء کرام کے علاوہ عراق سے آئے بزرگ علماء و مشایخ بھی شریک تھے۔
فقہ ہائیر ایجوکیشن کمپلیکس قم میں ہونے والی علمی نشست سے آیت اللہ محسن فقیہی اور علامہ افتخار نقوی نے خطاب کیا۔