دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد بہت مشکل دن دیکھے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ وزیراعظم اور صدر شہید ہو گئے۔ لوگ امام خمینی کے پاس آئے اور کہا کہ اہم شخصیات شہید کر دی گئی ہیں۔ تو آپ نے تسلی دی اور کہا اللہ کو جن سے پیار ہوتا ہے انہیں جلد اٹھا لیتا ہے
شہید صدر رئیسی کو ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں حرم امام رضا علیہ السلام میں دفن کیا گیا۔
رئیس الوفاق المدارس آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی کی قیادت میں وفد میں علامہ محمد افضل حیدری ،علامہ مرید حسین نقوی، ڈاکٹر سید محمد نجفی بھی شامل تھے۔
اس موقع پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی اور پاکستان کے عوام کی جانب سے ان کو اور ایرانی حکومت اور عوام کو تعزیت پیش کی۔
وفد میں علامہ غلام باقر گھلو صاحب, علامہ اعجاز حسین حیدری صاحب ودیگر علماء کرام بھی ہمراہ تھے.
شہید صدر رئیسی اور ان کے ساتھی شہداء کی نماز جنازہ صبح نو بجے تہران یونیورسٹی میں رہبر معظم کی اقتدا میں ادا کردی گی۔
انہوں نے کہا: حجۃ الاسلام و المسلمین رئیسی ایک مہذب اور خدمت گزار عالم تھے جنہوں نے خلوص ، خلوص نیت، دیانتداری اور سنجیدگی کے ساتھ ہمیشہ لوگوں خاص طور پر کمزور طبقہ کے مسائل کے حل کے لیے انتھک محنت کی۔
صدر مملکت ایران حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی اور انکے ساتھ وفد کی شہادت پر آیت اللہ العظمی حافظ بشیر نجفی نے ایک تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اس جانگزار حادثے پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی خدمت میں تعزیت پیشں کرتا ہوں، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی خطہ میں امن قائم کرنے کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں