صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
حجۃ الاسلام والمسلمین سعیدی آریا نے کل رات حرم حضرت معصومہ (س) میں قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایاحساب کتاب میں الہی قوانین ہمارے دنیاوی قوانین سے بہت مختلف ہیں۔
اپنے ایک بیان میں ایس یو سی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ میں اس ملک کے تمام ریاستی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ ان تمام واقعات کے حقائق منظر عام پر لائیں اور یتیم بچوں کو انکے سوال کا جواب دیں۔
یلی سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے جنرل سیکرٹری "عبداللہی محمد موسیٰ" نے کہا کہ امریکی پرچم کو جلانے اور احتجاج کرنے کا مقصد ایک ایسے شخص کے بہیمانہ قتل پر عدم اطمینان ظاہر کرنا ہے، جو دنیا بھر میں دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ کھڑا تھا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اس لیے وجود میں آیا تھا کہ سب کو برابر کے حقوق ملیں گے، سب اپنی محنت کے بل بوتے پر معاشرے میں اپنا مقام حاصل کریں گے لیکن آج ایسا نہیں ہے، آج جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ قرآن کے مطابق ،سود اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے مترادف ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت اور آیت اللہ مصباح یزدی اور شیخ شہید نمر النمر سمیت متعدد علماء کی برسی مناسبات ہمارے پیش نظر رہیں۔ اسی طرح ہم نے نسیم عطاوی کو بھی کھو دیا جو ایک عالم، واعظ، اور مجاہد تھے، میں ان سب کے لیے آپ سب کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اصولوں اور بنیادی تعلیمات کو محفوظ رکھتے ہوئے اسلامی انجمنوں کے اپ ٹو ڈیٹ رہنے کو آج کے حالات میں ایک اور ضروری امر قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ عدل و انصاف جیسے کچھ اصول اور تعلیمات دائمی اور اٹل ہیں جو ہزاروں سال پہلے سے ہیں اور ان میں فرسودگي نہیں آتی لیکن انصاف کے نفاذ کے طریقے میں تبدیلی اور جدت طرازی کا امکان پایا جاتا ہے۔
حکومت ہند کو بھی سفارتی سطح پر اس فیصلے کی مذمت کرنی چاہئے اس لئے کہ یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ افغانستان کی آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کی نگاہ میں اہم ترین چیز یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس زندگی سے کیا حاصل کیا آیات الٰہی کی نظر میں زندگی ایک سرمایہ ہے اور ہم نے اس سرمایہ کو کیسے استعمال کیا ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل کیا ہے اورکتنا ہم نے رضایت الہی کو حاصل کر نے میں اپنی زندگی صرف کیا ہے۔