صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
میں شیراز کے معززین اور دیگر سوگوار ہم وطنوں اور شہداء کے اہل خانہ کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ سے صبر اور اجر عظیم اور شہداء کی روح کی بلندیٔ درجات کے لیے دعاگو ہوں۔
علامہ سید محمد تقی نقوی نے جے ایس او کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ایک نوجوان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے، بالخصوص تنظیمی نوجوان کو معاشرے کی اصلاح کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
دشمن کا ہدف ایران کو شام بنانا، ایران کو تقسیم کرنا اور ایک محکم و مضبوط ایران کی مخالفت کرنا ہے، اس مشترکہ جنگ میں دشمن نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر طریقے کو استعمال کیا ہے۔
السودانی نے تقریب کے بعد اپنے ٹویٹر پر لکھا کہ آج میں نے عراق کے سابق وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی طرف سے وزارت عظمی اور عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کا عہدہ وصول کیا۔
انقلابِ اسلامی سے پہلے، شام میں قیام پذیر ہوئے اور کچھ عرصہ تک حرم مطہر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حرم حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کے متولی اور حرم مطہر حضرت زینب سلام اللہ علیہا میں امام جماعت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کر کہاکہ جس طرح ریاستی ادارے نے اپنا کردار واضح کیا ہے جسکی نچلی سطح تک بھی اس کی پابندی کی جائے اسی طرح ملکی اور صوبائی سطح کی دیگر ایجنسیوں اور قان نافذ کرنے والے ادارںکو بھی اسی رویہ کو اپنانا چاہیے اور زیادتیوں کا خاتمہ کرکے آئین اور قانون کے مطابق شہریوں سے سلوک کر ناچاہیے تاکہ گھٹن ماحول کا خاتمہ کیا جاسکے ۔
اسلام آباد میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چند دن پہلے سعودی عرب سے ایس ڈی ایف کا وفد آیا، سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ کے وفد نے پلندہ کھول دیا کہ یہ منصوبہ 5 سال پہلے اور وہ منصوبہ 6 سال پہلے دیا گیا تھا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی،سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری اور نائب صدر علامہ مرید حسین نقوی نے معروف کشمیری رہنما مولانا محمد عباس انصاری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ بالخصوص کشمیر ی عوام کاعظیم نقصان قراردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحہ میں بیس عبادات گزار مسلمان و مومنین جن میں ماں کی آغوش میں موجود ایک کم سن بچہ بھی شامل تھا، نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ ایک تلخ ترین واقعہ ہے جس میں حرم مطہر کی حرمت کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ عبادت میں مصروف بےگناہ انسانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔