صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
ان 12 روز کے دوران جابر حکومت نے انتہائی بھیانک جرائم کا ارتکاب کیا جو عام طور سے غزہ میں انجام ديئے گئے، ان اقدامات سے ثابت ہوگیا کہ فلسطینیوں کی متحدہ تحریک کے مقابلے میں اپنی کمزوری اور ناتوانی کے سبب وہ اسطرح کے شرمناک اور جنون آمیز اقدامات کررہی ہے، اور پوری دنیا کی رائے عامہ کو اپنے خلاف اکسا رہی ہے حتی اپنے حامی مغربی ملکوں خصوصا سفاک امریکہ کو پہلے کی نسبت اور زيادہ منفور اور قابل نفرت بنا رہی ہے۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کی جانب سے حسینیہ بلتستانیہ قم المقدسہ میں حالیہ اسرائیلی مظالم اور فلسطینی عوام کی فتح کے حوالے ایک تحلیلی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ نشست سے فلسطینی تجزیہ نگار اور صحافی عبدالرحمٰن ابو سنینیہ نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج دنیا میں اگر کوئی قوم فلسطینی عوام کی کھل کر حمایت کر رہی ہے تو پاکستان ہیں اور پاکستانی عوام اقوام عالم کے درمیان انقلابی ترین عوام ہیں۔ عبدالرحمٰن ابو سینیہ نے محور مقاومت کی فتح و نصرت کو اسلامی انقلاب کے مرہون منت قرار دیا.
ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی جس مقصد کے لئے بنائی گئی اب اس کا کچھ نہیں پتہ۔غیر موثرہوچکی ہے، اب بھی یورپی یونین کے اصرار پر امریکی صدر جنگ بندی کے لئے مجبور ہوا۔ دیگر چند مسلمان ممالک نے کچھ آوازبلند کی۔ مسلمان اب بھی ہوش میں آئیں ، اللہ کی طرف رجوع کریں۔ سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جو قوم اللہ کو بھلا دیتی ہے تو اللہ بھی اسے بھلا دیتا ہے اور وہ مختلف عذابوں، بلاﺅں کا شکار ہوجا تی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے ائمہ جمعہ و جماعت نے مقبوضہ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت اور ظالم و سفاک صہیونی حکومت کے وحشیانہ […]
فلسطين میں ہر سو آہ و فغاں کا عالم ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں زمین بوس ہورہی ہیں اور ہر طرف خون ہی خون دکھائی دے رہا ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم نے بھی تمام ممالک نے اسرائیلی جارحیت کی بس مذمت کی، عالمی سطح پر مسلمان خود کمزور ہیں، اسی لیے ہمیں طاقت ور کی آواز سننا پڑے گی۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ کسی قابض کے خلاف مزاحمت عالمی قوانین کے تحت جائز ہے، حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئے جانے والے راکٹ حملوں کو جائز سمجھتا ہوں۔
متحدہ طلبہ محاذ کے زیر اہتمام اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر انتظام مسئلہ فلسطین اور امت مسلمہ کا کردار کانفرنس کا انعقاد لاہور میں ہوا ۔کانفرنس میں تمام طلبہ تنظیموں کے مرکزی قائدین نے شرکت کی ۔کانفرنس سے طلبہ رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ مسلمان ممالک کو فلسطین اور کشمیر پر ایک موقف اختیار کرنا چاہیے ، مسئلہ فلسطین حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں۔
مظلوم فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے مجلس علمائے ہندکے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں سے اسرائیل مسلسل نہتی مظلوم فلسطینی عوام پر وحشیانہ بمباری کررہا ہے جس میں سیکڑوں افراد شہید ہوگئےہیں۔
23 مارچ کو مجلس عاملہ کے منعقده اجلاس میں "وقف املاک ایکٹ " اور اس کے تحت محکمہ اوقاف کے ساتھ مدارس کی رجسٹریشن کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ ہماری طرف سے اس وقت تک کئے گئے اعلی سطحی سرکاری رابطوں، کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔