صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
فلسطینی قوم ترنوالہ نہیں جسے کوئی بھی آسانی سے نگل لے یہ اسرائیل سمیت اس کے تمام حواریوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔فلسطین میں آبادی والے علاقوں پر اسرائیلی حملے اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔
بیت المقدس: اسرائیل کی فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں شہید افراد کی تعداد 149 تک پہنچ گئی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و بربریت ناقابل قبول ہے، عالمی استعمار امریکہ نے فلسطین کی ہزاروں سالہ تاریخ کو ختم کرکے اپنے ناجائز اولاد اسرائیل کو جنم دیا، اوراب تک ان دہشتگرد استعماری غاصب ریاستوں نے انسانیت پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے.
انہوں نے کہاکہ فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت سنی العقیدہ ہے مگر پوری دنیا میں فلسطینیوں کے حقوق اور قبلہ اول کی حفاظت کے لیے شیعہ العقید ہ مسلمانوں نے تحریک چلا کر طاغوتی قوتوں کی طرف سے مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ شعائر اللہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے ۔
کربلائے معلیٰ کے برجستہ عالم دین آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نے اپنے ہفتہ وار لیکچر میں فلسطینی عوام کی تحریک اور قیام کے بارے میں کہا کہ قابض و غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کے قیام نے ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ آج بھی اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہدو پیمان کی پابند ہے اور ہر روز دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں بیدار ہونے والے انقلابی جذبے سے اس اسلامی تہذیب کی نوید ملتی ہے جس کا شدت سے انتظار ہے۔
حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی نے صہیونیوں کی جابرانہ پالیسیوں اور مزاحمتی محاذ کی کامیابیوں پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے مزاحمتی محاذ کی مزید کامیابیوں کی نوید سنائی اور آخر میں مظلوم فلسطینی مسلمانوں کےلئے عربی زبان میں اپناپیغام بھی ریکارڈ کروایا۔
عراق، فلسطینیوں کی حمایت میں بغداد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد کی شرکت-
محمد جواد ظریف نے ویانا میں وزارت خارجہ اور ایوان صدر پر غاصب اور جابرصیہونی حکومت کا پرچم نصب کئے جانے پر بطور احتجاج ویانا کا دورہ منسوخ کردیا۔
مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان نے اسرائیلی مظالم کے خلاف 16مئی کو ملک گیر مردہ باد امریکہ و اسرائیل منانے کا عزم بھی کیا جس کے تحت ملک کے گوش و کنار میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔