صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
درج ذیل فوٹوگیلری میں انقلاب اسلامی کی خاطر اپنے اعضائے بدن کا نذرانہ پیش کرنے والے جانبازوں کو ملاحظہ کر سکتے ہیں جو اس وقت زندگی کے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل ہیں۔
انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے فرزندان توحید کو نواسہ رسول ؐ حضرت امام حسین ؑ، علمدار کربلا حضرت عباس ابن علی ؑ اور سید الساجدین حضرت امام زین العابدین ؑ کے ایام ولادت کے موقعہ پر ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و عترت کا باہمی ربط روح و بدن کے رشتے کے مترادف ہے۔
مدرسہ آیۃ اللہ خامنہ ای اور تحریک حسینی پاراچنار کے زیراہتمام یوم ولادت امام حسین (ع) کے سلسلے میں سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں عوام کے علاوہ علاقے کی تمام مذہبی اور سیاسی تنظیموں کے رہنماوں اور علماء نے شرکت کی۔
مولانا مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن سرسی ہی میں حاصل کی پھر اس کے بعد کانودر صوبہ گجرات کا رخ کیا اور حوزہ علمیہ امام حسن عسکری علیہ السلام میں مقدمات کی تعلیم حاصل کی پھر اس کے بعد مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ کا رخ کیا اور وہاں پر جید اساتذہ سے کسب فیض کرتے ہوئے اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھایا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں مضبوط قوم اور ترقی یافتہ ملک بننے کےلئے خود داری اور خود مختاری کے نظریے پر عمل لازم ہے، افسوس عالمی بڑوں کی بیٹھک میں مسئلہ کشمیر پر لفظ تک نہیں بولا گیایہ خارجہ پالیسی کی کمزوری نہیں تو کیا ہے؟ریاست مدینہ کا نام لینے والوں کے دور میں بنیادی حقوق ا ور شہری آزادیوں پر قدغنیں اور زیادتیوں کا سلسلہ جاری یہ داخلہ پالیسی کی ناکامی نہیں تو کیاہے؟
جشن کے خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین سید سعید موسوی نے امام عالی مقام کی فضیلت، سیرت اور فرمودات پر روشنی ڈالی اور امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اہداف میں سے ایک اہم ہدف توحید کا احیاء اور غیر اللہ کی بندگی سے باز رکھنے کو قرار دیتے ہوئے عقیدہ توحید کی مظبوطی اور اللہ سے توجہ ہٹا کر دوسری چیزوں کی پرستش کے اسباب کے حوالے سے اپنے زرین خیالات کا اظہار کیا۔
علامہ اشفاق وحیدی نے کہا کہ یمن عراق شام فلسطین بحرین میں ظلم اور زیادتی کردار یزیدی کی عکاسی کرتا ہےاقوام متحدہ اور عالمی ادارے ایسی قوتوں کے خلاف کاروائی کرے جو دوسرے ممالک میں مداخلت کر کے حالات خراب کر رہی ہیں.
حجت الاسلام سید رضی الموسوی نے کہا کہ آج مخالف مذاہب کے کتنے ہزار مدارس ہیں مگر افسوس مومنین کےمدارس کی تعداد سینکڑوں میں ہے اسقدر کم تعداد میں ہونا لمحہ فکریہ ہے مومنین شعور پیدا کریں حسین ابن علی جیسی ہستیوں نے بھی میدان میں اتر کر دین کی نصرت کی لہذا ہمیں بھی میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔
حضرت آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ریاستِ مدینہ نے وحدت ایجادکی، تفریق نہیں۔ بھائی چارہ قائم کیا،لوگوں کو تقسیم نہیں کیا۔ حکومت اپنے ریاستِ مدینہ کے دعوو ں پر غور کرے۔تمام مسالک کے دینی مدارس کے بورڈز کے اتحاد کو دنیا بھر میں سراہا جاتا تھا کہ ہر اسلامی مکتبہ فکر کا ایک بورڈ ہے ، اتحاد تنظیمات مدارس کے پلیٹ فارم سے آپس میں متحد ہیں۔