رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
برائیوں اور مفاسد کو دور کرنے اور دنیا کو ایک ہمہ گیرعادلانہ نظام فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اصلاح امت کا بنیادی فریضہ انجام دیا جائے۔ یہ فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ امام حسین ؑ کے فرامین‘ کردار‘ سیرت‘ انداز عمل اور جدوجہد سے استفادہ کریں۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مذکورہ آیاتِ قرآنی کو شیعہ سنی احادیث کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ صحاحِ ستہ کی کتب میں امام مہدی آخر الزمان عجل اللہ فرج کے حوالہ سے چند مشترک باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ کہ ان کا نام "مہدی" ہے، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کی نسل سے ہیں، ان کا نمبر بارہواں ہے، وہ علی و فاطمہ علیہم السلام کے فرزند ہیں، رسول کریمؐ کے جانشین بنی اسرائیل کے خلفاء کی طرح بارہ ہوں گے وغیرہ۔
فلسفہ شہادت یہی ہے کہ اللہ کی خاطر جینا اور اللہ کی خاطر مرنا اور جس نے اس روش کو اختیار کیا اس کا شمار حسینی قافلے ہی میں ہوگا کربلا ہمیں راہ خدا میں جان دینے کا ہنر سکھاتی ہے سید الشہداء کا یہ لافانی پیغام دور حاضر میں اپنانے کی اشد ضرورت ہے کہ"دین پر سب کچھ لٹایا جاسکتا ہے
انہوں نے اہل بیتؑ کی محور و مرکزیت اور ان کی حیثیت کے بیان کرنے کو بعثت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلِ منبر کو چاہیے کہ اہل بیتؑ کے مقام و مرتبہ کو بار بار بیان کریں۔
علامہ سید علی رضا رضوی نے مرکزی عشرہ مجلس عزا سے مکتب تشیع کی جانب سے پالیسی ساز بیان دیتے ہوئے کہا کہ تشکیل پاکستان سے تعمیر پاکستان تک مکتب تشیع کا طرر عمل قانون پسند ، مہذب اور ذمہ دارانہ رہا ہے اور آئندہ بھی مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے اور ملت تشیع نے جانی اور مالی ہر قسم کی قربانیاں پیش کرتے ہوئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا
جمعے کی شام ہونے والے اس دھماکے میں آٹھ حسینی عزادار شہید اور اٹھارہ دیگر زخمی ہوئے ۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں انہوں نے کہا عزاداری ہمارا آئینی اور شہری حق ہے، جسے استعمال کریں گے اور صدیوں سے کرتے آرہے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ شرپسندوں کو لگام ڈالیں۔
صدر عارف علوی نے لکھا کہ جب سے آپ پاکستانی عوام نے مجھے یہ عہدہ امانتاً دیا ہے، میں نے سینکڑوں شہدا کے خاندانوں سے رابطے کیے ہیں، جنازوں میں شرکت کی ہے اور تعزیت کے لیے ان سے ملاقات کی ہے، آپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میں یہ کام اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خاندانوں کو اپنے شہدا پر ہمیشہ فخر ہوتا ہے لیکن ہم سب اس دنیا میں غمگین اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ غاصب اسرائیلی طیاروں کی غزہ پر وحشیانہ بمباری سے فلسطینی کمانڈر اور 5 سال کی بچی سمیت 10 فلسطینی شہید اور 75 زخمی ہو گئے۔