صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد کے سلسلے میں جاری پاک آرمی کے آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر کے حادثہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے آخری رسول جب مبعوث برسالت ہوئے تو انہوں نے عالمِ بشریت کو ایک ایسا فلاحی نظام دیا جس کا تعلق جسم کی فلاح اور روح کی سعادت سے ہے اور یہ نظام دنیوی زندگی کی سرفرازی کے ساتھ اخروی زندگی کی سربلندی کا ضامن بھی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو خراب موسم کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر کا ملبہ لسبیلہ کے علاقے وندر میں موسیٰ گوٹھ سے ملا۔ واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 6 افسران اور سپاہی شہید ہوگئے جن میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بھی شامل ہیں۔
علامہ علی رضا رضوی کا کہنا تھا پیغمبرِ اسلام اور ان کی مطہر آل علیہم السلام نے انسان کو حقیقی انسان اور پھر مسلمان بنانے کے لئے بے شمار مشقتیں برداشت کیں تاکہ ایک حقیقی مسلمان انسان خدا کی بندگی اس طریقے پر انجام دے سکے
انکا مزید کہنا تھا کہ کربلا رہتی دنیا تک ایک آفاقی تحریک ہے لوگوں کو اگر جینا ہے تو ان سے جڑ جائیں جو مرے نہیں ہیں جبکہ پاکستان سمیت ساری دنیا میں کربلا والوں کی یاد میں یہ بڑے بڑے اجتماعات ان کی حیات ابدی کا منہ بولتا ثبوت ہیں
علامہ امین شہیدی نے پہلی وحی کو تربیتِ انسانی کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ لفظ "اقراء" جہل سے علم تک کا سفر ہے۔ پہلی وحی بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے ذریعہ انسانی معاشرہ رفتہ رفتہ تاریکی سے روشنی اور نادانی سے دانائی کی طرف بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کربلا کا درس ہے کہ بصیرت و آگاہی اور شعور و فکر کو بلند و بیدار رکھا جائے ورنہ جہالت و گمراہی کے پروردہ ہر جگہ ایسی ہی کربلائیں پیدا کرتے رہیں گے۔ کربلا ایک لگاتار پکار ہے،یزیدیت ایک فکر اور سوچ کا نام ہے اسی طرح حسینیت بھی ایک کردار کا نام ہے قیامت تک حسینیت یزیدیت کے مقابلے میں بر سر میداں رہے گی۔
آپ آگاہ ہیں کہ ہم نے آپ کے تعاون سے اپنی قومی و ملی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسے تمام منصو بوں کا بھرپو ر مقابلہ کیا اور ملک بھر میں مختلف رکاوٹو ں کو دور کیا گیا جس کی تفصیلات مختلف ادواد میں مختلف ذرائع سے عوام تک پہنچائی گئیں‘عزاداری کے خلاف کوئی سرکاری قانون منظور نہیں ہونے دیاگیا‘ منسوخ شدہ جلوسوں کو بحال کرایا گیا‘جہاں مجلس روکی گئی تو وہاں مجلس منعقد کرائی گئی اور عوام سے دوٹوک انداز میں کہا کہ مجلس کے لیے کسی سے کسی قسم کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
علامہ ساجد نقوی کے مطابق امام حسین ؑکی جدوجہد اور واقعہ کربلا سے الہام لینے اور استفادہ کرنے کا سلسلہ61 ھجری سے آج تک جاری وساری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ دنیا میں حریت پسندی کی ہر تحریک کربلا کی مرہون منت نظر آتی ہے اور دنیا کی تمام حریت پسند تحریکیں امام حسین ؑ کی شخصیت سے متاثر نظر آتی ہیں۔