صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر محزون ہونے اور گریہ کرنے کی وجوہات و اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تاریخِ انسانی ظلم کی داستانوں سے بھری پڑی ہے، یہاں تک کہ کئی انبیاء کو ان کی امت کے افراد نے دردناک طریقہ سے قتل کیا، لیکن ان کے قتل پر ہم گریہ و ماتم نہیں کرتے؛ تو پھر امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنے کی وجہ کیا ہے،
انہوں نے کہا: یکم محرم کو اس طرح کی شرپسندی محرم کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی سازش ہے۔ مقامی انتظامیہ اس کی مکمل انکوائری کرائے اور ذمہ دار عناصر کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت جذبات کی بجائے ہوشمندی کاہے۔بدامنی پھیلانے والوں کے ساتھ حکومت آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔زخمی ہونے والوں کی صحتیابی اور شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعاگو ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کی دینی اور انسانی ذمہ داری اسی دعوت حق کو عام کرنا اور اس الہی تحریک کے اغراض و مقاصد کی صحیح تشریح کرنا ہے اور اس کے لئے سب سے اہم پلیٹ فارم مجالس و جلوس عزا اور منبر و ماتمی حلقے ہیں۔
وفد میں مرکزى ڈپٹى جنرل سيکرٹرى برادر محمد تقى مغل، صوبائى آرگنائزر سندھ برادر سيد آذان کاظمى، ڈويژنل صدر سيہون ڈويژن برادر محسن على ساجدى ونگانى، آرگنائزر راولپنڈی ڈويژن برادر ميثم على، برادر على حيدر اور سيد عاصم على موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ مقدسات کی توہین کرنے والے کسی مسلک کے نہیں بلکہ استعمار کے آلہ کار ہوسکتے ہیں، دنیا میں تشیع مسلک کے دو مراکز ہیں، نجف و ایران، نجف سے آیت اللہ سید علی سیستانی اور ایران سے آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کھلے عام فتویٰ جاری کیا کہ کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔
ملک اقرار حسین نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں عزاداری امام حسین کے احیا کے لئے اپنا رول ادا کرتی رہے گی، ہم حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہے کہ محرم الحرام میں کوئی روکاوٹ نہ ڈالی جائے، جلوسوں کے اوقات کو موسم کے لحاظ سے تصور کیا جائے، جہاں پر نئی آبادیاں قائم ہوئی ہیں، وہاں پر مجالس عزا اور جلوس عزا برپا کرنے میں کوئی مشکلات نہ پیدا کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی اثاثوں کی فروخت اسٹریٹیجک اٹیک ہے اس کو روکا جائے۔اگر فروخت کرنے ہیں تو ماضی کے ان حکمرانوں کے اثاثوں کو فروخت کیا جائے جو قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماہ محرم الحرام میں اپنے قلب و روح کی پاکیزگی کے ساتھ مجالس عزا میں شرکت کریں اور ہماری مجالس میں نوجوان طبقے کی فکری و روحانی تربیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے