رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
انہوں نے کہا کہ یہ وقت جذبات کی بجائے ہوشمندی کاہے۔بدامنی پھیلانے والوں کے ساتھ حکومت آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔زخمی ہونے والوں کی صحتیابی اور شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعاگو ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کی دینی اور انسانی ذمہ داری اسی دعوت حق کو عام کرنا اور اس الہی تحریک کے اغراض و مقاصد کی صحیح تشریح کرنا ہے اور اس کے لئے سب سے اہم پلیٹ فارم مجالس و جلوس عزا اور منبر و ماتمی حلقے ہیں۔
وفد میں مرکزى ڈپٹى جنرل سيکرٹرى برادر محمد تقى مغل، صوبائى آرگنائزر سندھ برادر سيد آذان کاظمى، ڈويژنل صدر سيہون ڈويژن برادر محسن على ساجدى ونگانى، آرگنائزر راولپنڈی ڈويژن برادر ميثم على، برادر على حيدر اور سيد عاصم على موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ مقدسات کی توہین کرنے والے کسی مسلک کے نہیں بلکہ استعمار کے آلہ کار ہوسکتے ہیں، دنیا میں تشیع مسلک کے دو مراکز ہیں، نجف و ایران، نجف سے آیت اللہ سید علی سیستانی اور ایران سے آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کھلے عام فتویٰ جاری کیا کہ کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔
ملک اقرار حسین نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں عزاداری امام حسین کے احیا کے لئے اپنا رول ادا کرتی رہے گی، ہم حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہے کہ محرم الحرام میں کوئی روکاوٹ نہ ڈالی جائے، جلوسوں کے اوقات کو موسم کے لحاظ سے تصور کیا جائے، جہاں پر نئی آبادیاں قائم ہوئی ہیں، وہاں پر مجالس عزا اور جلوس عزا برپا کرنے میں کوئی مشکلات نہ پیدا کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی اثاثوں کی فروخت اسٹریٹیجک اٹیک ہے اس کو روکا جائے۔اگر فروخت کرنے ہیں تو ماضی کے ان حکمرانوں کے اثاثوں کو فروخت کیا جائے جو قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماہ محرم الحرام میں اپنے قلب و روح کی پاکیزگی کے ساتھ مجالس عزا میں شرکت کریں اور ہماری مجالس میں نوجوان طبقے کی فکری و روحانی تربیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے
کانفرنس کے لیے تقریبا 40 مقالات موصول ہوئے۔جن میں سیدہ شمائلہ رباب رضوی نے پہلی پوزیشن،مہرین رباب نے دوسری اور زرینہ تبسم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
مقررین نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں حسینی و حقیقی عزادار بننے کی تلقین کی تاکہ امام زمانہ (عج) کی خوشنودی کا باعث بن کر ان کے ظہور کا زمینہ فراہم کر سکیں۔