صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
۔قائد شہیدکی 34 ویں برسی کے موقع پر علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علامہ عارف الحسینی کی شخصیت انتہاپسندی‘ شدت پسندی اور جنونیت جیسے سنگین مسائل کے خلاف توانا آواز تھی ۔ اُن مسائل کے حل کے لئے علامہ حسینی نے اتحاد و وحدت اور صبر و حکمت کا راستہ اختیار کیا تھا کیونکہ حکمت و اتحاد امت قرآنی و نبوی فریضہ ہے جس پرہم مسلسل عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہاسیلاب متاثرین کے ریلیف کے سلسلے میں فوجی افسروں اور جوانوں کا کام قابل تعریف ہے ۔جنہوں نے موجودہ سیلاب کے باعث مشکلات میں گھری عوام کا احساس کرکے انہیں ریلیف فراہم کرنے کے دوران شہادت کا رتبہ پاکر فوج کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
علامہ امین شہیدی نے قرآن کو کتابِ ہدایت و انسان سازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسان کو گمراہی سے نکال کر بلندی اور عظمت کے اعلی ترین مقام پر پہنچانے والی کتاب ہے۔
علامہ سید علی رضا رضوی نے اپنے موضوع دین حکمت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین کی آمد کا مقصد انسان کو طرح کے عیب سے صاف کرنا ہے اور اسکی سوچ ، فکر ، کردار کو جہالت ، جمود ، قدامت پسندی جیسے مضر امراض سے محفوظ رکھنا ہے۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے عقیدہ امامت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولا علی علیہ السلام باب مدینتہ العلم ہیں جو بھی تحصیل علم کا طالب ہے اسے اسی دروازے پر آنا پڑے گا۔
علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے خطاب میں پاسبان وطن کے چیئرمین چوہدری خورشید انور کی امن کانفرنس منعقد کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محرم کا مہینہ نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کی احیائے اسلام کے لئے عظیم قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے،
انہوں نے کہاکہ بابائے قوم محمد علی جناح نے دنیا پر دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے جس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا، ہندوستان کا کشمیر پر قبضہ ناجائز اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن افسوس حقوق بشریت کےلئے صدائے احتجاج بلند کرنیوالوں اور آسمان سرپر اٹھانے والوں کی زبانیں معلوم نہیں کیوں بھارت کےخلاف گنگ ہیں۔
علامہ سید علی رضا رضوی کا کہنا تھا کہ اسلام کی بنیاد عقل و منطق پر استوار ہے اور اس کے پیش کردہ تمام نظریات کا تعلق معقولات سے ہے کیونکہ یہ کسی فرد یا جماعت کے تجربات ، تجزیات ، سوچ و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اسکا مصدر و منبہ وحی الہٰی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جتنا ذکر کربلا کیا جائے گا یاد حسین کا انعقاد ہوگا اتنا زیادہ وحدانیت پروردگار کا اثبات ہوگا اور اس ذات کی عبادت کا طریقہ و سلیقہ ہمیں آئے گا مجلس عزاء کے دروازے ہر آنے والے کے لئے کھلے ہیں یہ امام حسین کا فرش انسانیت کے لئے درسگاہ ہے اہلسنت تو ہماری جان ہیں اس فرش عزا کے دروازے غیر مسلموں پر بھی بند نہیں کیے جاسکتے