صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کے لیے تقریبا 40 مقالات موصول ہوئے۔جن میں سیدہ شمائلہ رباب رضوی نے پہلی پوزیشن،مہرین رباب نے دوسری اور زرینہ تبسم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
مقررین نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں حسینی و حقیقی عزادار بننے کی تلقین کی تاکہ امام زمانہ (عج) کی خوشنودی کا باعث بن کر ان کے ظہور کا زمینہ فراہم کر سکیں۔
آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا کہ ملک کی بقاء اور اتحاد امت کے لیے کاوشوں کو نظر انداز کر کے ان کی مذہبی اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے جو کوششیں کی جا رہی ہیں وہ ناقابل قبول ہیں اور عوام اپنے شہری و مذہبی حقوق سے کسی طور دستبردار نہیں ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھا تو بند کمروں میں بیٹھ کر تشیع کو دیوار سے لگانے والوں کی کاوشیں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ نصاب تعلیم کی تکمیل تشیع کے بغیر ممکن نہیں۔
ایک اور اہم بات یہ دیکھی گئی ہے کہ اس کانفرنس میں وفاق، تحریک اور علامہ شیخ محسن نجفی سے وابستہ علماء، مدارس اور اداروں کے علماء، مولوی صاحبان شریک تھے۔ کے پی کے میں علامہ جواد ہادی، پاراچنار سے علامہ عابد الحسینی جبکہ اسلام آباد میں واقع مجلس وحدت سے مربوط علماء میں سے کوئی بھی شریک نہیں تھا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ لوگ مدعو نہیں تھے یا تشریف نہیں لائے۔ اگر مدعو نہیں کیا گیا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک جماعت یا پارٹی کا اجتماع تھا، اگر دعویٰ پوری قوم کی قیادت و رہبری کا ہے تو قوم کے اس موثر حلقے و حصے کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔
منہاج القرآن علما کونسل کے زیر اہتمام ملک بھر میں 500سے زائد مقامات پر ”پیغام امام حسین علیہ السلام“ کے عنوان سے کانفرنسز منعقد ہوں گی جن میں تحریک منہاج القرآن کے سکالرز، فلسفہ شہادت امام حسین ؓ اور شان اہل بیت اطہار پر روشنی ڈالیں گے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے محرم الحرام،فلسفہ شہادت،نواسہ رسول کے قیام کےمقاصد پر خطاب کرتے ہوئے کہا: امام حسین ع کی شہادت کا مقصد ہی امن، پیار اوراتحاد ووحدت کا درس ہے۔امام حسین ع محسن انسانیت ہیں۔اور فرقہ و مذہب کی تفریق سے بالا تر ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی، حضرت آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی اور مفسر قرآن حضرت علامہ شیخ محسن علی نجفی کی راہنمائی سے نصاب کے مسلے کو حل کر لا جائے گا۔
جامع علی مسجد جامعة المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا قرآن افتراءنہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے لکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دے دی ہوبلکہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے۔