صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ملاقات میں قومی و ملی امور کے ساتھ ساتھ کوئٹہ اور سندھ کے دورہ جات کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی۔ قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مرکزی وفد کی تنظیمی اور ملی کاوشوں کو سراہا اور ان کوششوں کو مذید بڑھانے کے لیے ہدایات دیں۔
وزیرا عظم عمران خان آج روس کے دورے پر دو روزہ دورے پر ماسکو روانہ ہوں گے، اس دورے کو انتہائی اہم اور دونوں ممالک کے درمیان نئے سفارتی تعلقات کی نوید سمجھا جارہا ہے۔
رحمان ملک پیپلز پارٹی کی طرف سے 2018 سے سینیٹ کے رکن تھے، وہ 2008 سے 2013 تک پاکستان کے وزیر داخلہ رہے، سیاست میں آنے والے قبل وہ ایف آئی اے کے سربراہ بھی رہے
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر وجود میں آیا، پاکستان بنانے کیلئے تمام مسالک نے قربانی دی ہے اور یہ ملک بنایا، آج بھی ملک میں ہم سب اسلامی رواداری اور بھائی چارگی سے رہتے ہیں، تعلیمی نظام کو جس طرح ہونا چاہیے وہ ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔
امن وامان کے ذمہ دار ریاستی ادارے بھی کالعدم دہشت گرد عناصر کی شرانگیزی کا نوٹس لیں
دین جہاں مردوں کے لئے حقوق مقرر کرتا ہے وہاں عورتوں کے حقوق کے بارے میں بھی تاکید کرتا ہے۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے ذلت و رسوائی کی وجہ سمجھی جانے والی مخلوق (عورت) کو اعلیٰ مقام عطا کیا ہے اور آج کے جدید دور کی تہذیبی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عورت کے اندر بے حیائی کا رجحان پیدا کر دیا ہے
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کیپٹن حید ر عباس کی نماز جنازہ کراچی میں علامہ ناظر تقوی کی اقتداء میں ادا کر دی گئی،نمازہ جنازہ میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید،حاضر سروس افسران، جوانوں،شہید کے رشتہ داروں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ورکشاپ میں قمر عباس غدیری، حسن علی سجادی، سہیل احمد مطہری، عاطف مہدی سیال نے آداب محفل، شعبہ فائزین، نصاب، سالانہ پروگرام اور شعبے کا امتحان کیسے بنایا اور لیا جائے و دیگر تنظیمی تربیتی موضوعات پر خطاب کئے۔
اصلاح معاشرہ کیلئے مسلم دنیا اور علماء میدان عمل میں آئیں اور کوشش کی جائے کہ بہتر اور اچھا ماحول پیدا ہو۔ اس موقع پر مولانا اکرام حسین ترمذی، مولانا رجب علی بنگش، آغا جعفر علوی، مولانا عباس رضا نجفی، مولانا مرزا طاہر علی حبیب اور دیگر علماء و خطیب موجود تھے۔ بعد ازاں ملک کی سلامتی اور استحکام کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔