رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
اس نمایش کا عنوان "مہدویت و آخرالزمان،انتظار ظہور،ظہور اورہماری زمہ داریاں،علامت ھائے ظہور" رکھا گیا ہے اور اس حوالے سے دو کیٹگریز میں اہل ہنر اپنے آثار پیش کرسکتے ہیں۔ منتخب آرٹسٹوں کے لیے درج ذیل انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔
مؤمن واقعی وہ ہے جو زندگی کی مشکلات میں کبھی بھی پریشان نہیں ہوتا اور خدا کی بارگاہ میں ان کی شکایت اور اعتراض کرنے کے بجائے صبر اور استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا ہے اور ان حالات میں اپنے اور خدا کے رشتہ کو اور مستحکم کرتا ہے اس صورت میں اس کو سکون اور آرام میسر ہوتا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر حجۃ الاسلام والمسلمین عارف حسین واحدی نے کہا: حضرت علی علیہ الصلاۃ والسلام کے نزدیک دنیا پر حکومت کرنے کی اہمیت صرف تب ہے جب ایک حکمران معاشرے میں عدل اجتماعی کے قیام کے لئے جدوجہد کرے۔
لاہور میں گفتگو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عورت مارچ سے ملک میں تناؤ اور تقسیم ہوئی ہے، کوئی انتہائی مذہبی اور کوئی فاشسٹ لبرل ہے، فاشسٹ لبرل طبقے کو عورتوں کے سارے مسائل صرف پردے میں نظر آتے ہیں اور پردے کے علاوہ انہیں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ اسرائیل کا وجود ناجائزہے، عالمی استعمار مسلسل اس ناجائز ریاست کی پشت پناہی کئے ہوئے ہے،صیہونیت نے انسانیت سوز مظالم کی تمام حدیں پار کردی ہیں ، اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی بھی ماننے کو تیار نہیں، کیا اب بھی ایسی ریاست کے وجود کا باقی رہنے کا جوا ز ہے ؟
لاہور میں اجتماع سے خطاب میں ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ کا کہنا تھا کہ افراد کا کسی بھی معاملے میں خود ہی مدعی اور خود ہی منصف بن کر فیصلے کرنا کسی بھی صورت شرعی و قانونی لحاظ سے جائز نہیں۔
معنویت سے بھرپور اس اعتکاف کی محفل میں خواتین نے تلاوت قرآن ، دعا و مناجات اور ذکر خداوندی کیساتھ ساتھ مختلف معلمات اور علماے کرام کے دروس سے بھی استفادہ کیا ۔
حافظ ریاض نجفی نے کہا اللہ تعالیٰ نے حق و انصاف اور عدالت کے قیام کے لئے انبیاءؑ کے ساتھ کتابوں کو بھی نازل فرمایاتاکہ سب کے ساتھ انصاف کا برتاﺅ کیا جائے، گھر والوں حتیٰ کہ اپنے ساتھ بھی انصاف کیا جائے یعنی ایسا نہ ہو کہ غلط کاریوں کی بنا پر سزا بھگتنا پڑے۔
کسی فرد یا گروہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کسی مہذب معاشرے میں اس کی اجازت نہیں اورنہ ہی اسلام میں اس عمل کی کوئی گنجائش موجود ہے۔