صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امتحانات 26 مارچ سے شروع ہوں گے، قرآن، تفسیر، حدیث، تاریخ، اخلاق، فقہ، عقائد، اصول الفقہ، تجوید و قرات، حفظ قرآن اور پیش نمازی کے امتحانات لئے جائیں گے
ملک بھر میں وفاق المدارس کے تحت سالانہ امتحانات کا آغاز ہو گیا۔ ملک بھر کے 2500 سے زائد امتحانی مراکز میں ہفتہ 26 فروری سے تین مارچ تک بیک وقت امتحانات ہوں گے۔
اجلاس میں قومی نصاب تعلیم کے حوالے سے اراکین مجلس عاملہ نے بغور جائزہ لیا اور کہا کہ اس بارے میں اقدامات تبھی بارآور ثابت ہوسکتے ہیں، جب قومی نصاب تعلیم کو یکساں خطوط پر استوار کیا جائے۔ اجلاس میں زائرین پالیسی پر موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکمران زیارات کو کمرشل نہ بنائیں بلکہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے مذہبی عبادات میں آسانی اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی سے مرکزی صدر جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سید راشد حسین نقوی کی وفد کے ہمراہ ملاقات، اہم تنظیمی امور، ملکی صورتحال پر رہنمائی لی
امام موسی کاظم ؑ نے اپنے آباءو اجداد کی سیرت و کردار پر عمل پیرا ہوکر خالص اسلام محمدی کی تعبیر و تشریح، قرآن مجید کی تفسیر اور اسلامی معارف کی روشن تصویر کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں امامت اور سیاسی حاکمیت کے فلسفے کو واضح کیا
امام برحق صبر و رضا کی اعلٰی ترین معراج پر تھے۔ان کی زندگی کے تمام پہلو اپنے جد امجد رسول خدا ﷺ کے اسوہ حسنہ کا عملی اظہار ثابت
پاکستان میں ایرانی سفیر ’’سید محمد علی حسینی‘‘ نے صوبہ پنجاب میں واقع ایک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے خطاب میں کہاکہ ایران پاکستان تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں مرکزی بنک آف ایران نے پاکستان کو ایک مسودہ پیش کیا ہے اور ہم ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے دین اسلام کے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، سکھ برادری، عیسائی اور دیگر مذاہب کے رہنماؤں نے بھی شرکاء سے خطاب کیا اور مذہبی رواداری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے جامعۃ المنتظر لاہور میں طلباء سے خطاب میں کہا کہ ہم حضرت آیۃ اللہ سید ابوالقاسم خوئی سے جو کچھ کسب کرتے تھے اسے پہلی فرصت میں لکھتے تھے اور اس وقت میرے پاس ان لکھے ہوئے دروس کی تین جلدیں موجود ہیں اور سید ضیاء الحسن نے اس کو ترتیب دیا ہے اور کچھ جلدیں زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں اور کچھ زیر طبع ہے۔