صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونیوالی ملاقات میں شفقت محمود نے یقین دلایا کہ نصاب تعلیم میں صرف وہی مواد شامل ہوگا، جس سے مذہبی رواداری کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے، کسی بھی قسم کا کوئی اختلافی مواد نصاب تعلیم کا حصہ نہیں ہوگا۔
مذاکرات انڈس واٹر کمشنر ز کی سطح پر ہو رہے ہیں۔ پاک بھارت انڈس واٹر کمشنر کے مذاکرات 3 مارچ تک جاری رہیں گے، مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کر رہے ہیں جبکہ بھارتی وفد کی نمائندگی بھارتی واٹر کمشنر پی کے سکسینا کر رہے ہیں۔
امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر زاہد مہدی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یوکرائن میں محصور پاکستانی طلبہ کی باحفاظت واپسی فی الفور یقینی بنائی جائے۔
شب 27 رجب المرجب بعثت ختمی مرتبت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے المصطفیٰ آڈیٹوریم جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد کیا گیا.
ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی اجلاس ہوا جس میں بھارت میں حجاب پر پابندی اور مسکان خان کو ہراساں کرنے کے خلاف قرارداد منظور کی گئی جس کے متن میں کہا گیا کہ بھارت آر آر ایس کے مذہبی انتہا پسندوں کی آماہ جگاہ بن چکا ہے جبکہ مودی کے بھارت میں انسانیت اور اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس اور مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر عوام کو مسائل میں الجھانے کیلئے یکساں نصاب تعلیم کی آڑ میں ایک ایسا نصاب تعلیم نافذ کرنا چاہتی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔
ملاقات میں حکمرانوں کی جانب سے جی بی کو عبوری صوبہ بنائے جانے کے فیصلے کے تمام جزیات کا جائزہ لیا گیا اور اس ضمن میں آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے تجاویز بھی مرتب کی گئیں۔
تنظیمی ممبران سے بات چیت کرتے ہوئے رہنماء آئی ایس او نے کہا کہ روس یوکرائن تنازع کا سفارتی حل ممکن تھا لیکن امریکہ نے اس تنازع کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا، امریکی صدر بائیڈن نے یوکرائن کو نیٹو افواج میں شمولیت کا خواب دکھا کر اپنی جنگ میں دھکیل ڈالا۔
کاظم“ یعنی غصہ پی جانے والا،آپ کا معروف لقب ہے۔غلام سے آپ کے لباس پر سالن گر گیا تو ناصرف اُسے غلطی کا احساس تک نہ دلایا اور معاف کردیا بلکہ جب اُس نے چند آیات تلاوت کیں تو اسے آزاد کر دیاجو اُس زمانے میں بہت بڑا احسان تھا۔