رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
قرارداد رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے جمع کروائی۔ انہوں نے قرارداد میں مطالبہ کیا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں 20 جمادی الثانی کو یوم خواتین کے طور پر منایا جائے۔
سفارت اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد کیجانب سے کتاب "صورتِ سلیمانی" کی تقریب رونمائی سے خطاب میں امت واحدہ پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شہید قاسم سلیمانی کو محض ایک فوجی جنرل کی نظر سے دیکھنا انکی غیر معمولی شخصیت کیساتھ زیادتی ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ اسلام میں بیٹی کی شادی پر جہیز یا ولیمہ کا کوئی تصور نہیں۔ لڑکے کی طرف سے دیئے جانے والے حق مہر میں سے جہیز کا انتظام ہونا چاہئے۔
علامہ فدا حسین مظاہری نے اپنے خطابات میں بار بار ایک ہی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اتحاد و اتفاق کی فضا قائم رکھی جائے، نفاق اور آپس کی رسہ کشی سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔ چنانچہ امید ہے کہ سالوں سے نقاق کے لگائے ہوئے پودے کی اب بیخ کنی ہو جائے گی اور اس حوالے سے نومنتخب انجمن خصوصاً سیکریٹری صاحب اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے لاتے ہوئے پوری قوم کو ایک ہی لڑی میں پرو کر تمام تر توانائی دیرینہ قومی مسائل کے حل پر صرف کرینگے۔
جامعۃ المنتظر لاہور کے مہتمم اعلیٰ علامہ محمد افضل حیدری نے لاہور کی انار کلی میں ہونیوالے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے لاہور انار کلی بازار میں ہونیوالے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
لاہور سے جاری اپنے مذمتی بیان میں قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں، عوام کی جان و مال کا تحفظ یقنی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، تمام اقدامات بروکار لائے جائیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے بہتر روابط کیلئے صوبہ پنجاب کو انتظامی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، نئی تقسیم کے مطابق شمالی پنجاب، وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کے دفاتر علیحدہ قائم کئے جائیں گے، جہاں مدارسی دینیہ کی رجسٹریشن، داخلے، امتحانات اور دیگر امور کیلئے دفاتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں اور شہید کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ان مقتولین کا کوئی جرم نہیں تھا، ان کو محبت اہلبیت (ع) کے جرم میں شہید کیا گیا ہے۔