صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے بہتر روابط کیلئے صوبہ پنجاب کو انتظامی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، نئی تقسیم کے مطابق شمالی پنجاب، وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کے دفاتر علیحدہ قائم کئے جائیں گے، جہاں مدارسی دینیہ کی رجسٹریشن، داخلے، امتحانات اور دیگر امور کیلئے دفاتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں اور شہید کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ان مقتولین کا کوئی جرم نہیں تھا، ان کو محبت اہلبیت (ع) کے جرم میں شہید کیا گیا ہے۔
فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ذریعے 1990ءکی دہائی کے حالات دوبارہ پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کا جاری رہنا خود ریاستی اداروں اور ایجنسیوں کے وجود پر سوالیہ نشان ہے؟
ان کا کہنا تھا حضرت فاطمه زہرا (ع) کی زندگی كا ہر پہلو الٰہی اقدار سے عبارت تها اور اسلامی تعليمات كا ایک مجسمہ جناب زہرا (ع) کی شكل ميں خداوند متعال نے عطا کیا، جو علم و دانش، حجاب و عفت، ازدواج اور شوہر كے انتخاب، فن شوہر داری اور اولاد کی تربيت، گهريلو اقتصاد کی مدد، اسلام كیلئے عورتوں كا سياسی اور اجتماعی ميدان ميں آج كی خواتين كیلئے ایک مكمل نمونہ عمل ہے۔
آپ تمام قارئین سے گزارش ہے ان کی صحتیابی کے لئے دعا کریں۔اللہ بحق محمد و آل محمد شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے آمین
انہوں کہا کہ رزق ہلال کمانے کی غرض سے اپنی دکانوں پر بیٹھے مقتولین پر دہشت گردوں کا دھاوا اور پھر فرار ثابت کرتا ہے کہ ریاست مدینہ کا دعوہ کرنے والے تاحال عوام کو تحفظ جیسی بنیادی حق فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ملک کا مستقبل خطرات سے دوچار ہے، اگر اسلام کو چھوڑیں گے تو ملک کا شیرازہ بکھرے گا، ملک کے بحرانوں کا حل قرآن و سنت کی بالادستی ہے، ہم نے قرضوں سود کی لعنت کا راستہ اختیار کیا، دنیا سے کشکول کا راستہ اپنایا خود کو اغیار کی دہلیز کے سامنے جھکا دیا جس کی وجہ سے ورلڈ بینک ہماری تہذیب مسجد و محراب پر غلبہ پا چکے ہیں۔
اس موقع پر حجة الاسلام شیخ محمد رضا بہشتی نے کہاکہ پورے ملک میں جہاں جہاں قدرتی آفات اور مساٸل سے شہری دوچار ہوے قاٸد محترم کے دست شفقت شامل حال رہے۔
تنظیمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ پاکستان میں تشیع کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے ہمارا اتحاد ضروری ہے، جب تک ہم متحد نہیں ہونگے، دشمن اپنی سازشوں میں مصروف رہیگا۔