صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے مری برفباری میں پھنسے ہوئے سیاحوں کی اموات پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامی اداروں سے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا تحفظ بنیادی ذمہ داری ہے، جس کیلئے ٹھوس اقدمات کے ذریعہ انتظامیہ اور حکومت کیجانب سے ایسا میکنزم بنائے جانے کی اشد ضرورت ہے، جس سے ایسا افسوسناک اور دلخراش واقعہ دوبارہ وقوع پذیر نہ ہو۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راز قرآنی تعلیمات جاننے اور اس پر عمل کرنے میں مضمر ہے، اس مقصد کیلئے ترجمہ قرآن کو نصاب کے مطابق ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے جمہوری اسلامی ایران کے سفارتخانے میں عظمت شہداء سیمینار میں شہداء اسلام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء نے امت مسلمہ کو متحد کرنے اور عالمی سامراجی طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی جانیں قربان کی۔
جلوس میں عزاداروں، بچوں بڑوں اور خواتین کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ جلوس کے شرکاء پورے راستے ماتم اور نوحہ خوانی کرتے رہے۔ جلوسِ عزاء میں شریک عزاداروں کا کہنا تھا کہ آج اس پاک ہستی کی شہادت کا دن ہے جن کے والد بزرگوار تمام مسلمانوں کے آخری نبی(ص) ہیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسان نیکی کی کوشش اور برائیوں سے کنارہ کشی کرے تو اللہ کی طرف سے تحسین اور قدردانی کی جاتی ہے۔
کراچی میں منعقدہ "اتحاد امت کانفرنس" سے خطاب میں مقررین نے اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے وسائل ایک دوسرے کے مفاد اور فائدے میں استعمال کرنا چاہیئے۔ انہوں نے پاکستان، ایران، ترکی اور سعودی عرب کے اتحاد پر بھی بات کی۔
دنیا میں حقیقی وقار و عظمت اور آخرت میں کامیابی کی منازل تک پہنچنا ہے تو اہل بیت ع کے راستے پر چلنا ہو گا۔
سیدہ فاطمہ ؑ کا اسوہ ہر دور میں خواتین عالم کے لئے نمونہ عمل ہے، حضرت فاطمہؑ کی پاکیزہ گود سے حسن ؑ اور حسین ؑ جیسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے وقت اور تاریخ کے دھارے کا رخ موڑا،خواتین جناب سیدہ ؑ کی سیرت و تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اطاعت خداوندی‘عفت و پاکدامنی کے ذریعہ اپنی زندگیوں کو کامیاب بناسکتی ہیں.