صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے علماء و فقہ اسلامی کے ماہرین طلباء کا ایک نمائندہ وفد نے اسلام آباد میں جامعۃ الکوثر کا دورہ کیا۔ان کے اعزاز میں منعقدہ خصوصی نشست سے ڈاکٹر ندیم عباس خان، علامہ آفتاب حسین جوادی کے علاوہ علامہ شیخ انور علی نجفی نے خطاب کیا۔
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے واضح کیا ہے کہ ملت جعفریہ ہرگز اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہیں کرے گی، جبکہ شیعہ عقائد کو نظرانداز کرکے کوئی نصاب مسلّط نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا تمام طبقات کیلئے ”یکساں نصاب“ اچھا اقدام ہے، لیکن متعصب افراد نے اسے متنازعہ بنا دیا، بالخصوص نصاب میں مکتبِ تشیّع کو نظرانداز کیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ علامہ ساجد علی نقوی کی قیادت میں ہم نے نصاب کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کئے ہیں، اگر ان کو دُور نہ کیا گیا تو ہم پُرامن احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔
ولادت باسعادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کانفرنس( غلام حسین آڈیٹوریم جامع الصادق ٹرسٹ جی نائن ٹو ۔اسلام آباد) میں منعقد ہوئی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے واضح کیاہے کہ ملت جعفریہ ہرگز اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہ کرے گی ۔جبکہ شیعہ عقائد کونظر انداز کر کے کوئی نصاب مسلّط نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا تمام طبقات کے لئے ”یکساں نصاب“ اچھا اقدام ہے لیکن متعصب افراد نے اسے متنازعہ بنا دیا۔
اس موقع پر علامہ سید عابد حسین الحسینی نے نئی انجمن حسینیہ کے اراکین کو مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اور اہم قومی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
مقررین نے کہا کہ نصاب تعلیم کیلئے سید ضیاء الدین رضوی نے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، آج سترہ سال گزرنے کے باوجود اس وقت کے وزیراعظم کے احکامات کو ردی کے ٹوکری میں ڈال دیا گیا اور اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ شہید سید ضیاء الدین رضوی کے قاتلوں کو گرفتار کر سزا دی جائے اور نصاب تعلیم کا مسلہ فی الفور حل کیا جائے۔
شیعہ علماءکونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے یکساں نصاب کے نام پر متنازع مواد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ نصاب مسلکی کہا جاسکتا ہے ،تمام مکاتب فکر کا متفقہ نہیں ہے۔تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاج کریں گے۔
علماء اور مذہبی اکابرین نے کیچ اور قبائلی علاقوں میں فورسز پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔