صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پرنسپل جامعہ فاطمیہ خانم فرحانہ گلزیب نے سیرت جناب سیدہ فاطمہ زہرا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کائنات میں واحد خاتون سیدہ فاطمہ زہرا ہی ہیں جو اسوۂ کامل ہیں ہم ان کی سیرت پہ عمل کر کے معاشرے کا بہترین فرد بن سکتے ہیں۔
تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ نرگس سجاد جعفری نے جناب سیدہ کائنات (س) کی مقام و منزلت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا جو مقام و منزلت ہے وہ خود انکی شخصیت کی وجہ سے ہے اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی بیٹی ہیں ۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی کی جانب سے جاری تعزیتی پیغام میں کہاہے کہ آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینی تعلیمات کی ترویج اور دین اسلام کے اصولوں کی حمایت میں صرف کی۔
آپ کی رحلت پر تمام مومنین و مومنات، حوزہ علمیہ قم و نجف، مراجع عظام، رہبر معظم انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی الخامنہ ای حفظہ اللہ اور بالخصوص امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تسلیت و تعزیت عرض کرتے ہیں۔
امام جمعہ سکردو نے حضرت آیۃ اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کی المناک رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عظیم فقدان کو عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔
حضرت آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی کی رحلت ملت تشیع کے لیے نا قابل تلافی نقصان ہے آپ نے ہمیشہ مکتب تشیع کی ہر عنوان سے خدمت کی آپ کے آثار و افکار رہتی دنیا تک تشیع کی ترویج کا سبب ہیں آپ کو صنف روحانیت میں شیخ المراجع سے یاد کیا جاتا ہے آپ عمر مبارک ١٠٣ سال تھی۔ آپ ایک عظیم عزادار امام حسین تھے اس کے ساتھ ساتھ آپ انقلاب اسلامی کے بعد ایران کے بنیادی قانون بنانے والی کمیٹی کے رکن اور امام خمینی رح کے حکم پر شوری نگہبان کے رکن و سربراہ تھے
انا لله و انا الیه راجعون
انہوں نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ پاکستان نے ایک اسلامی فلاحی ریاست بننا ہے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔
انہوں نے کہاکہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی بلند پایہ عالم اور فقیہ تھے۔مرحو م مجتہد کی وفات عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔