صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ دور حاضر میں دنیائے انسانیت کو بالعموم اور عالم اسلام کو بالخصوص جن بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے اور انسانی معاشرے جس گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں اس میں انسانوں کو ہدایت اور روحانیت کی ضرورت ہے جو انہیں حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرکے اور اس پر عمل کرکے حاصل ہوسکتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم امام ؑ کی سیرت اقدس پر عمل کرکے انسانیت کو مسائل سے نجات دلائیں، عدل و انصاف سے مزین معاشرے تشکیل دیں اور اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کریں۔
انہوں نے چائنا انرجی اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن اور پاور چائنا کے چیئرمین سے آن لائن ملاقات کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق ان ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی کے شعبے کی بہتری اور سرمایہ کاری پر گفتگو ہوئی۔
پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے موقف کو دنیا کے سامنے اور عالمی اداروں تک پہنچاتے ہیں گے۔یہ ایوان کشمیریوں پر بھارت کے ڈھائے جانے والے مظالم کی پرزورمذمت کرتا ہے۔
سال ہائے گزشتہ کی طرح اس سال بھی اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے زیر اہتمام 20 فروری سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ ترجمان اصغریہ تحریک سجاد علی ساجدی نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی تنظیم کی جانب سے ماحول دوست درخت اور پودے لگائے جائیں گے، شجرکاری مہم کا آغاز 20 فروری سے ہوگا،
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی لاہور کے صدر قاسم علی قاسمی کا کہنا تھا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے، کشمیر میں ظلم پر اقوام متحدہ کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حل کیا جائے
یوم یکجہتی کشمیر پر وزیراعظم کا کہنا ہے کہ غیر قانونی بھارتی اقدامات کے بعد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل ابتر ہے، اڑھائی سال سے جاری فوجی محاصرے کے باعث سینکڑوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔
شہید سید عارف حسین الحسینی پشاور میں مدرسہ ہذا کی انتظامیہ کی جانب سے صوبہ کے مختلف مدارس میں زیرتعلیم طلبہ کیلئے ’’شہید عارف الحسینی تربیتی و فکری‘‘ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہاکہ مظلومین کی حمایت ایک شرعی تقاضا ہے۔دنیا بھر کے مسلمان مظلومین کی حمایت میں یک زبان ہو کر ظالموں کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہاکہ یکساں قومی نصاب کے مسئلے پر اہل سنت علماء سے بھی کہہ چکا ہوں اور اب دوبارہ اہل سنت اور اہل تشیع علماء سے کہتا ہوں کہ یہ ہمیں بھڑانا چاہتے ہیں تاکہ ہم آپس میں لڑتے رہیں اور پھر حکومت کہے کہ بھائی آپ کی تو لڑائیاں ختم ہی نہیں ہوتی ہیں، آؤ ہم ایسا سلیبس بناتے ہیں جو سیکولر ہو۔ ہم یہ قبول نہیں کریں گے۔