رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی کی جانب سے جاری تعزیتی پیغام میں کہاہے کہ آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینی تعلیمات کی ترویج اور دین اسلام کے اصولوں کی حمایت میں صرف کی۔
آپ کی رحلت پر تمام مومنین و مومنات، حوزہ علمیہ قم و نجف، مراجع عظام، رہبر معظم انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی الخامنہ ای حفظہ اللہ اور بالخصوص امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تسلیت و تعزیت عرض کرتے ہیں۔
امام جمعہ سکردو نے حضرت آیۃ اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کی المناک رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عظیم فقدان کو عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔
حضرت آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی کی رحلت ملت تشیع کے لیے نا قابل تلافی نقصان ہے آپ نے ہمیشہ مکتب تشیع کی ہر عنوان سے خدمت کی آپ کے آثار و افکار رہتی دنیا تک تشیع کی ترویج کا سبب ہیں آپ کو صنف روحانیت میں شیخ المراجع سے یاد کیا جاتا ہے آپ عمر مبارک ١٠٣ سال تھی۔ آپ ایک عظیم عزادار امام حسین تھے اس کے ساتھ ساتھ آپ انقلاب اسلامی کے بعد ایران کے بنیادی قانون بنانے والی کمیٹی کے رکن اور امام خمینی رح کے حکم پر شوری نگہبان کے رکن و سربراہ تھے
انا لله و انا الیه راجعون
انہوں نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ پاکستان نے ایک اسلامی فلاحی ریاست بننا ہے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔
انہوں نے کہاکہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی بلند پایہ عالم اور فقیہ تھے۔مرحو م مجتہد کی وفات عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے علماء و فقہ اسلامی کے ماہرین طلباء کا ایک نمائندہ وفد نے اسلام آباد میں جامعۃ الکوثر کا دورہ کیا۔ان کے اعزاز میں منعقدہ خصوصی نشست سے ڈاکٹر ندیم عباس خان، علامہ آفتاب حسین جوادی کے علاوہ علامہ شیخ انور علی نجفی نے خطاب کیا۔
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے واضح کیا ہے کہ ملت جعفریہ ہرگز اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہیں کرے گی، جبکہ شیعہ عقائد کو نظرانداز کرکے کوئی نصاب مسلّط نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا تمام طبقات کیلئے ”یکساں نصاب“ اچھا اقدام ہے، لیکن متعصب افراد نے اسے متنازعہ بنا دیا، بالخصوص نصاب میں مکتبِ تشیّع کو نظرانداز کیا گیا ہے