صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس سال محرم الحرام میں پیش آنے والے واقعات قابل مذمت ہیں انکا مذید کہنا تھا کہ نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ بانی شریعت ہیں ان سے محبت ہر قوم میں پائی جاتی ہے
ان کا کہنا تھا عزاداری امام حسین علیہ سلام ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس سے ہم کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے ملک میں تمام شیعہ سنی مل کر شہدائے کربلا کی یاد مناتے ہیں ان کے نام کی سبیلیں لگاتے ہیں ، نیاز اور لنگر تقسیم کرتے ہیں حتی کہ ہندو اور مسیحی برادری بھی امام حسین علیہ سلام سے عقیدت اور عشق کا اظہار کرنے کے لیے مجالس و جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں۔
شیعہ سنی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سربراہ ملی یکجہتی کونسل نے کہا کہ جو لوگ جعلی ویب سائیٹ بناکر ان پر اشتعال انگیز لوازمہ اپ لوڈ کرکے فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکا رہے ہیں، وہ اسلام اور پاکستان سے دشمنی کر رہے ہیں، ان جعلی فرضی ویب سائٹ کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال روکنا ضروری ہوگیا ہے۔ جس انداز سے سے سوشل میڈیا کا منفی استعمال ہورہا ہے۔ اس سے معاشرتی زبوںحالی کو سمجھنا مشکل نہیں ہے ۔ معاشرہ بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ اسلامی اور مشرقی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل20کے مطابق تمام مکاتب فکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اپنے عقائدکے مطابق آزادی کےساتھ عبادات اور رسومات ادا کریں
ایک بیان میں ایس یو سی رہنما نے کہا کہ دس دن مسلسل مجالس عزاء میں شرکت، ماتم داری، نوحہ خوانی، ذکر فضائل و مصائب اہل بیت (ع) اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، ہمارے لئے نعمتوں کا معیار یہ ہے کہ ہم اہل بیت (ع) کی خوشی میں خوشی اور غم میں غم مناتے ہیں۔
عزاداری امام حسین علیہ السلام عظیم عبادت اور ہمارا بنیادی حق ہے پاکستان کا آئین اور قانون ہمیں مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔
ملک بھر میں بالخصوص پنجاب میں عزاداری کے حوالے سے ایک پلاننگ کے تحت آئین ِپاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہری آزادی کو پامال کیا جارہاہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ انسان کی زندگی فطرت پر استوار ہے۔جس میں خوشیاں ہیں اور غم بھی۔غم اور خوشی منانا بھی فطری تقاضا ہے، لیکن اگر یہ قرآن کی تابع نہیں ہے تو وبال جان بن جائے گا۔امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہماری خوشی میں خوش ہو جاؤ اور ہمارے غم میں غم مناؤ ۔ جبکہ امام کے قول کے مطابق ہونے کا مطلب رسول خدا اور قرآن کی پیروی ہے ۔