رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
مجلس علماء امامیہ پاکستان کے 5ویں سالانہ اجتماع کے سلسلے میں ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی کی زیر صدارت "عظمت غدیر و عاشوراء‘‘ کانفرنس کا انعقاد ہوا،
افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان خطے کے امن میں شراکت دار ہے، ہم مزید کسی محاذ آرائی کاحصہ نہیں بننا چاہتے۔ امریکا کو اڈے دینے سے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے گا۔
اسلام کی خاطر فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خاندان اور اصحاب سمیت جو عظیم قربانی دی ہے، محرم اس کی یاد کا مہینہ ہے، ہر مسلمان امام حسین علیہ السلام سے عشق کرتا ہے
جشن آزادی پر بچوں کیلئے خصوصی قومی پرچم والے ماسک تقسیم کریں گے، سکیورٹی کے سخت انتظامات ہونگے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ان دنوں وطن عزیز میں متنازعہ مسائل کو بلا جواز قانونی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یکساں قومی نصاب ِتعلیم تمام مکاتب فکر کے لیے قابلِ قبول ہونا چاہیےاور کسی بھی متنازعہ اور غیرمتفق علیہ مواد کو اس میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علماء سے خطاب کرتے ہوئے مفسرِ قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی نے کہا کہ عمامہ جو علماء کے سروں پر ہے وہ علم وتقویٰ کی علامت ہے، اور علماء کی ذمہ داری عوام کی راہنمائی ہے۔ اور محرم الحرام تبلیغِ دین کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ عاشورہ ایک طاقت ، ایک پلیٹ فارم اور ایک عظیم درسگاہ ہے۔
صوبے کے 8 تعلیمی بورڈز میں مجموعی طور پر 6لاکھ 61 ہزار 558 طلبہ طالبات شریک ہیں۔ پشاور تعلیمی بورڈ نے پرچے کے آؤٹ ہونے جیسی افواہوں کے تدارک کے لئے پیپر امتحانی مراکز سے ہال تک کی ویڈیو بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
خطباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خطیب کو چاہیے کہ وہ مجلس، وذکر حسینؑ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے پڑھے ، اگرتبلیغ کا مقصد وہدف اللہ ہو تو پھر کامیابی یقینی ہے۔ مبلغ دین ، مذہب، اور مدراس علمیہ کا ترجمان ہے لہذا اس کے پیش نظر وہی مقاصد ہونے چاہیے جو انبیاء کرام علیھم السلام اور اولیاء اللہ کے ہوتے ہیں، اور اسے وہی کام کرنا چاہیے جو نمائندگانِ الٰہی بجالاتے ہیں، پھر کامیابی یقینی ہے۔
علمائے کرام کا یہ نمائندہ اجتماع بانیان مجالس سے بھی بجا طور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی اُن عوامل کو ملحوظ خاطر رکھیں گے کہ جن سے عزاداری کے تحفظ اور فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔