صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں کسی قسم کی شدت نہیں پائی جاتی، اسلام تو امن وآشتی کا پیغام دیتا ہے، اگر طاقت کے زور پر اسلام پھیلانا ہوتا تو ہمارے نبی طائف کے بدووں سے پتھر کھانے کے باوجود بھی دعا نہ کرتے، آج ہم مغرب کے پیغام کو تو عام کرتے ہیں لیکن اسلام کے عالمی پیغام کو عام نہیں کرتے۔ جشن غدیر کے آخر میں ملکی سلامتی اور استحکام کیلئے اجتماعی دعا کرائی گئی اور کیک بھی کاٹا گیا۔
کہ تمام انبیاءحضرت محمد مصطفی کے امتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاءکو نبوت عطا کرنے سے پہلے خاتم الانبیاءسرورِ کائنات کی نبوت کا اقرار کروایا۔لیکن جب مولائے کائنات کی ولایت و امامت کا اعلان کا موقع آیا تو آیت کریمہ۔بلغ ما انزل۔۔۔میں ارشاد ہوا
مجلس علماء امامیہ پاکستان کے 5ویں سالانہ اجتماع کے سلسلے میں ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی کی زیر صدارت "عظمت غدیر و عاشوراء‘‘ کانفرنس کا انعقاد ہوا،
افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان خطے کے امن میں شراکت دار ہے، ہم مزید کسی محاذ آرائی کاحصہ نہیں بننا چاہتے۔ امریکا کو اڈے دینے سے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے گا۔
اسلام کی خاطر فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خاندان اور اصحاب سمیت جو عظیم قربانی دی ہے، محرم اس کی یاد کا مہینہ ہے، ہر مسلمان امام حسین علیہ السلام سے عشق کرتا ہے
جشن آزادی پر بچوں کیلئے خصوصی قومی پرچم والے ماسک تقسیم کریں گے، سکیورٹی کے سخت انتظامات ہونگے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ان دنوں وطن عزیز میں متنازعہ مسائل کو بلا جواز قانونی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یکساں قومی نصاب ِتعلیم تمام مکاتب فکر کے لیے قابلِ قبول ہونا چاہیےاور کسی بھی متنازعہ اور غیرمتفق علیہ مواد کو اس میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علماء سے خطاب کرتے ہوئے مفسرِ قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی نے کہا کہ عمامہ جو علماء کے سروں پر ہے وہ علم وتقویٰ کی علامت ہے، اور علماء کی ذمہ داری عوام کی راہنمائی ہے۔ اور محرم الحرام تبلیغِ دین کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ عاشورہ ایک طاقت ، ایک پلیٹ فارم اور ایک عظیم درسگاہ ہے۔
صوبے کے 8 تعلیمی بورڈز میں مجموعی طور پر 6لاکھ 61 ہزار 558 طلبہ طالبات شریک ہیں۔ پشاور تعلیمی بورڈ نے پرچے کے آؤٹ ہونے جیسی افواہوں کے تدارک کے لئے پیپر امتحانی مراکز سے ہال تک کی ویڈیو بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔