زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























سکردو؛ رہبرِ شہید کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، رہبرِ شہید کی شہادت نے عالمی استکبار کے فریب کو بے نقاب کیا، مقررین حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو بلتستان قرآن خوانی اور ایک باوقار و روح پرور مجلسِ ترحیم کا انعقاد،
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر قانون بلوچستان آغا سید محمد رضا نے کہاکہ امام مھدی ع کی توہین قرآن مجید اور رسول اللہ ص کے فرمودات سے انکار ہے،ریاست امام مھدی ع کی توہین کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے،توہین امام مھدی ع در حقیقت توہین رسالت ہے،عدالت امام مہدی ع پر ایمان عالم اسلام کے مسلمہ و متفقہ عقائد میں سے ہے۔
سردارانِ شہدائے مدافعان حرم اہل بیتؑ کی پہلی برسی اور شہدائے سانحہ مچھ کوئٹہ کی یاد میں مرکزی مجلس برسی کا انعقاد 23 جنوری 2021 بروز ہفتہ امامبارگاہ شہدائے کربلا انچولی بلاک 20 میں کیا جائے گا۔ ملک بھر سے نامور علماءوخطبا ء شرکت کریں گے ۔ پروگرام کی تیاریاں اور دعوتی عمل تیزی سے جاری ہے ۔انشاء اللہ یہ اجتماع شہدائے اسلام کی پاک ارواح سے تجدید عہد ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر مرید عباس لغاری نے اپنے صدارتی خطاب میں اتحادِ امت اور پاکستان مخالف قوتوں کی سازشوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کی پالیسیوں پر پوری طرح عمل پیرا ہیں اور عوام تک اُن کا پیغام پہنچائیں گے۔ آخر میں علامہ احسان علی اتحادی نے ملک و ملت کی سربلندی پاکستان کے استحکام و امن کے لئے دُعا کرائی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی پر پابندی کے بعد حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک سے متصل ادارے پر پابندی شرمناک عمل ہے جو امریکہ کے اسلام دشمن اور تعلیم دشمن کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
تربیتی ورکشاپ میں عملی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شرکاء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عملی مشق سے طلبہ کو اس امر کا ادراک ہوا کہ مدافع ولایت اور اُم الشہداء بی بی جنابِ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا ہم سے کیا تقاضا کرتی ہیں اور عصرِ حاضر میں اپنا کیا کردار کر سکتے ہیں۔
وزیراعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں زراعت کو بہتر بنانا اس لیے اہم ہے کہ اس سے عام عوام کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔
جمعیت علمائے پاکستان کا مشاورتی اجلاس ، سنی جماعتوں کے اتحاد کا فیصلہ
حجۃ الاسلام غضنفر حیدری نے کہا کہ یہ شہداء فتح کی علامت تھے اور انکی شہادت کے بعد دنیا پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں، یہ الہٰی اور معنوی ہستیاں ہم جیسے خاکساروں مین رہتی رہیں، انکے بعد دنیا میں بے چینی محسوس کی جا سکتی ہے، پوری دنیا کو پریشانی لاحق ہے۔
سفیر ایران نے تہران اسلام آباد تعلقات کے برادرانہ تعلقات کو علاقائی ممالک کے لئے ایک مثال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سیاسی مقاصد کے علاوہ بھی بہت سے شعبوں میں قربت و یکسانیت پائی جاتی ہیں۔