صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سردارانِ شہدائے مدافعان حرم اہل بیتؑ کی پہلی برسی اور شہدائے سانحہ مچھ کوئٹہ کی یاد میں مرکزی مجلس برسی کا انعقاد 23 جنوری 2021 بروز ہفتہ امامبارگاہ شہدائے کربلا انچولی بلاک 20 میں کیا جائے گا۔ ملک بھر سے نامور علماءوخطبا ء شرکت کریں گے ۔ پروگرام کی تیاریاں اور دعوتی عمل تیزی سے جاری ہے ۔انشاء اللہ یہ اجتماع شہدائے اسلام کی پاک ارواح سے تجدید عہد ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر مرید عباس لغاری نے اپنے صدارتی خطاب میں اتحادِ امت اور پاکستان مخالف قوتوں کی سازشوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کی پالیسیوں پر پوری طرح عمل پیرا ہیں اور عوام تک اُن کا پیغام پہنچائیں گے۔ آخر میں علامہ احسان علی اتحادی نے ملک و ملت کی سربلندی پاکستان کے استحکام و امن کے لئے دُعا کرائی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی پر پابندی کے بعد حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک سے متصل ادارے پر پابندی شرمناک عمل ہے جو امریکہ کے اسلام دشمن اور تعلیم دشمن کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
تربیتی ورکشاپ میں عملی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شرکاء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عملی مشق سے طلبہ کو اس امر کا ادراک ہوا کہ مدافع ولایت اور اُم الشہداء بی بی جنابِ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا ہم سے کیا تقاضا کرتی ہیں اور عصرِ حاضر میں اپنا کیا کردار کر سکتے ہیں۔
وزیراعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں زراعت کو بہتر بنانا اس لیے اہم ہے کہ اس سے عام عوام کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔
جمعیت علمائے پاکستان کا مشاورتی اجلاس ، سنی جماعتوں کے اتحاد کا فیصلہ
حجۃ الاسلام غضنفر حیدری نے کہا کہ یہ شہداء فتح کی علامت تھے اور انکی شہادت کے بعد دنیا پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں، یہ الہٰی اور معنوی ہستیاں ہم جیسے خاکساروں مین رہتی رہیں، انکے بعد دنیا میں بے چینی محسوس کی جا سکتی ہے، پوری دنیا کو پریشانی لاحق ہے۔
سفیر ایران نے تہران اسلام آباد تعلقات کے برادرانہ تعلقات کو علاقائی ممالک کے لئے ایک مثال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سیاسی مقاصد کے علاوہ بھی بہت سے شعبوں میں قربت و یکسانیت پائی جاتی ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کسی بھی شہری کی جبری گمشدگی گھناؤنا جرم ہے، اگر کوئی بھی شہری لاپتہ ہو تو ریاست اس کی ذمہ دار ہے، شہریوں کی سکیورٹی اور سیفٹی ریاست کی ذمہ داری ہے،