صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
اگر کوئی کامیابیوں کی بلندیوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو پیغمبر اکرم ؐکے کمال کی راہ اپنائے اور سیرت میں ان کی پیروی کرے
یہ عقیدہ رکھ کر انسان کسی سے بھلائی کرے گا تو اس سے شکریہ کا طلب گار نہیں ہو گا اور اُس کی بے وفائی پر دل شکستہ نہیں ہو گا۔اس لیے کہ اگر وہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے کر رہا ہے تو اسے اطمینان ہو گا کہ جس کے لیے یہ کر رہا ہوں وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
نعمت حقیقت میں ایک امتحان ہے اور کامیاب انسان وہی ہے جو انہیں اپنا حق نہ سمجھ بیٹھے بلکہ امتحان کا ذریعہ جانے۔
اس فرمان میں امیر المؤمنینؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک کو لے لو اور دوسرے کو چھوڑ دو بلکہ ایک کامیاب تجارت کا طریقہ بتایا ہے کہ جو ختم ہونے والا سرمایہ ہے
مرحوم ایک کامیاب مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مبلغ،مربی،شاعراور منتظم بھی تھے۔ آپ اپنی مادری زبان بلتی کے علاوہ فارسی اور اردو میں بھی شاعری کرتے تھے۔ آپ مرثیہ ،نوحہ ،قصائد کے علاوہ کبھی کبھار اصلاح معاشرہ پر بھی طبع آزمائی کرتے تھے۔
امام نقی علیہ السلام کے زمانے میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر اقوام بھی ان کی شخصیت سے متاثر تھیں۔ ان کے اسلوب نے یہ سکھایا کہ حقیقی قیادت انسانیت کے ہر فرد کے لیے شفقت اور رحم کا مظہر ہوتی ہے۔
دنیا کی حقیقت کے بیان کے لیے یہ خوب صورت تشبیہ ہے۔ انسان اگر دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو یہی دنیا اس کے لیے کمال کا ذریعہ بن سکتی ہے
اگر آپ کی نگاہ حزب اللہ لبنان اور یمن کی انصار اللہ کے تاریخی دھرنوں پر نہیں ہوگی تو آپ پارا چنار کے مظلومین کے حق میں ہونے والے ملک گیر دھرنوں کے خلاف بھی زہر اگلیں گے۔
انسان جب خواہشات کی پیروی کرنے لگتا ہے تو وہ صحیح و غلط اور حق و باطل کو نہیں دیکھتا بلکہ اپنی خواہشیں پوری کرنے کے لیے برے سے برا کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور یوں خواہشات کی تکمیل کے لیے قوانین کو پامال کرتا ہے اور عقل کے تقاضوں کو پاؤں تلے روند ڈالتا ہے۔