غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























جب شیعہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ابا عبد اللہ الحسین کی مصیبت میں یوں تسلیت عرض کریں:اعظم اللہ اجورنا بمصابنا الحسین
حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے اصحاب سے بہتر و برتر کسی کے اصحاب کاسراغ نہیں رکھتا، نہ ہی ہمارے گھرانے سے زیادہ نیکو کار اور مہربان کسی گھرانے کا مجھے علم ہے
جو شخص اپنی نماز کا رکوع مکمل اور صحیح طور پر انجام دے اس کو قبر میں وحشت و خوف سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا۔امام محمد تقی علیہ السلام
میں اپنی امت کے لئے مومن اور مشرک انسان کے خطرے سے نہیں ڈرتا کیونکہ خداوندعالم مومن(بندے) کے خطرے کو اس کے ایمان کے ذریعہ ڈال دیتا ہے اور مشرک کو اس کی سرکشی کی وجہ سے نابود کر دیتا ہے لیکن میں اپنی امت کے بارے میں جن افراد کے شر سے ڈرتا ہوں وہ منافق ہیں۔ منافق چرب زبان ہوتے ہیں اور وہ اپنے باطن میں ایک ہدف رکھتے ہیں (جس کو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں)۔ ان کی باتیں دلچسپ ہوتی ہیں لیکن وہ برے اور ناپسندیدہ کام انجام دیتے ہیں۔
جھوٹ تمهیں نابود کردے گا اگرچه تم اس میں امان سمجھتے هو
خود بینی علم حاصل كرنے سے مانع ھوتی ھے اور جہالت و نادانی كی دعوت دیتی ھے،امام علی النقی علیہ السلام
جو شخص کسی برے عمل کی تحسین و تعریف کرے وہ اس کی برائی میں شریک ہے۔امام محمد تقی علیہ السلام
علم كریم میراث ہے اور ادب خوبصورت زیور ہیں اور فكر صاف وشفاف آئینہ ہے، امام علی النقی علیہ السلام
جو شخص ایک کلمه کے ذریعے کسی مومن کے خلاف مدد کرے گا تو اللہ تعالی سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا جاۓ گا:یہ وہ بندہ ھے جو رحمت خدا سے ناامید اور مایوس ھے۔