پاکستانی فیلڈ مارشل کی ایرانی حکام سے ملاقات، اگلے مذاکراتی دور کا فیصلہ کریں گے، ایران
























حجت الاسلام دیدارعلی اکبری نے دہشتگردی کے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہادت ہمارا ورثہ ہے جوسید الشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین سے ہمیں ملا ہے اس لئے ہم شہید ہونے سے نہیں ڈرتے بلکہ شہادت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ پاراچنار کی وجہ کوئی زمینی تنازعات نہیں بلکہ حکومت کی مجرمانہ نیت ہے، جو ان مسائل کا حل نہیں چاہتی، اس جرم میں وفاقی و صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں، وزیراعظم ہمارے جنازوں پر پیسوں اور امداد کا اعلان نہ کریں، بلکہ ہمیں زندگی یعنی زندہ انسانوں کو پاکستانی تصور کرکے امن سے جینے دیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے عبرانی زبان میں کہا ہے کہ صہیونی دہشت گرد نیٹ ورک کے تمام سرغنوں کے خلاف مقدمہ چلاکر ان کا تعاقب کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ پاراچنار کے خلاف شیعہ جماعتوں نے مزار قائد نمائش چورنگی سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی ماتمی ریلی نکالی، جو گورنر ہاؤس پہنچ کر احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوگئی۔
آیت اللہ اعرافی نے بنگلادیش کی علاقائی اہمیت اور علمی و فکری ذخائر کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان وسائل کا استعمال نہ صرف بنگلادیش بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے علماء کے مقام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شیعہ علما کی خودسازی، اخلاقیات اور کردار کی تربیت نوجوان نسل کو جذب کرنے اور اسلامی معاشرے کی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے ریلوے سٹیشن کوئٹہ پر ہونیوالے دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت اور جاں بحق سویلین و سیکورٹی اہلکاروں کے لواحقین کو بھی تعزیت پیش کی۔
سید عباس عراقچی نے راولپنڈی میں پاک فوج کے ہیڈ کوارٹر میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ انسان کی تعمیر و ترقی میں علم اور تقویٰ دو بنیادی عنصر ہیں۔ علم اور تقویٰ کے حصول کے ذریعے ہم انسانیت کے اعلیٰ مراتب تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت نے نفسیاتی جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران کے دیندار عوام اور ملکی میڈیا نے دشمن کی اس سازش کو ناکام بنا دیا۔