پاکستانی فیلڈ مارشل کی ایرانی حکام سے ملاقات، اگلے مذاکراتی دور کا فیصلہ کریں گے، ایران
























زخمیوں میں مرد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، زخمی زائرین کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر پیغام دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہراتے ہیں کہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم پر اسرائیلی قیادت اور سیکیورٹی فورسز کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، اسرائیل کو اس کی ظالمانہ کارروائیوں کی کڑی سزا دی جائے، اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کروایا جائے۔
ڈاکٹر بشوی نے مزید کہا کہ آج علمائے کرام کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، کیونکہ ہر طرف دشمن کی یلغار ہے اور ملت کو بھی علماء کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے کیونکہ ملت کی نجات کا واحد حل علماء کے ساتھ چلنے میں ہے۔
حجتالاسلام مؤمنی نے واقعہ کربلا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: واقعہ کربلا کسی خاص زمانے یا نسل تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تمام ادوار کے لیے درس آموز ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے عراق کے سفیر حامد عباس لفتہ نے وزارت داخلہ میں ملاقات کی۔ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ بذریعہ ہوائی جہاز عراق جانے والے پاکستانی زائرین سے داخلے پر پاسپورٹ نہیں لئے جائیں گے
انہوں نے کہا کہ پیغام حسینیت واضح اور روشن ہے۔ زندگی کے ہر عمل میں کربلائی کردار ادا کرنا ہی حسینیت ہے، کربلا زندگی کے ہر اصول میں رہنماء اصول ہے لہذا میں آج طلباء و طالبات کی اس کاوش کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے ایسے اہم موضوع پر اس کانفرنس کا انعقادکیا۔
حضرت آیت الله جوادی آملی نے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران صحافیوں اور نامہ نگاروں کے وجود میں روح ملکوتی کے ہونے کی ضرورت پر زور دیا، صحافت ایک ایسی چیز ہے جس کا ایک جسم ہے، صحافت کایہ جسم ہر صحافی کے پاس ہوتا ہے، لیکن ہر ایک کے جسم میں یہ روح ملکوتی نہیں ہوتی۔
انہوں نے گناہ کے بعض بنیادی اسباب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: روایت ہے کہ ابو بصیر جو کہ امام صادق علیہ السلام کے صحابی اور قرآن کے استاد تھے، انہوں نے اپنے درس میں کسی خاتون سے مذاق میں کچھ کہا، اس واقعہ کی اطلاع امام صادق علیہ السلام کو ہوئی، دوسرے دن جب ابو بصیر امام کی خدمت میں گئے تو امام نے کہا کہ ابو بصیر اس درس کو اب بند کر دو۔