صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























لبنان کے شیعہ عالم دین شیخ احمد قبلان مفتی جعفری نے کہا کہ ہم دل کی گہرائیوں سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والے اس معاہدے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں جس کا ہمیں طویل مدت سے انتظار تھا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور بیلاروس کے درمیان پائے جانے والے بہت سارے اشتراکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور بعض یورپی ملکوں کی غنڈہ گردی والی پابندیاں، انھیں اشتراکات میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن ملکوں کو امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گيا ہے، انھیں ایک دوسرے سے تعاون کر کے اور ایک مشترکہ الاینس بنا کر، پابندی کے ہتھکنڈے کو ختم کر دینا چاہیے اور ہمارا ماننا ہے کہ یہ کام ممکن ہے۔
دوسری طرف 2021ء سے عراق اور عمان کے تعاون سے بھی ایران و سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار بیت چکے تھے۔ بالآخر 10 مارچ 2023ء کو بروز جمعہ بیجنگ میں چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان صلح اور نئے تعلقات کا ایک معاہدہ طے پاگیا۔ ہمارا اس معاہدے میں کوئی کردار ہی نہیں۔ ہم بحیثیت قوم نہ تین میں شمار ہوتے ہیں اور نہ تیرہ میں۔ ملک میں اس وقت جو دنگل کا سماں ہے، اسے ایک طرف رکھئے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تنظیم علامہ مقصود علی ڈومکی نے ضلع جامشورو کے گاؤں کراچی موری کے نوجوانوں اور مؤمنین سے ملاقات کی ہے۔
کچئ کوہاٹ میں شہداء کچئ کی بیسویں برسی کے مناسبت سے عظیم الشان عظمت شہداء کانفرنس کا انعقادکیا گیا۔ جس میں سربراہ امت واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی صاحب نے خصوصی شرکت و خطاب کیا۔
نویں یورپی قرآنی مقابلوں کی اختتامی تقریب آج بارہ مارچ کو صبح نو بجے اسلامی مرکز ہمبرگ میں منعقد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جو امام عصر علیہ السلام کا سپاہی بننا چاہتا ہے اسے چاہیئے کہ وہ نائب امام کے لشکر میں شامل ہو جائے۔ اسی لئے شہید آیت اللہ سید دستغیب شیرازی نے کہا تھا کہ جو امام زمانہ علیہ السلام کا سپاہی بننا چاہتا ہے اسے لشکر خمینی میں شامل ہونا چاہیے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے زیراہتمام کل13 مارچ سے امتحانات شروع ہوں گے۔ جس کے لئے ملک بھر میں 105 امتحانی مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں ۔
علماء امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں اور انسانیت کو تابناک اور روشن مستقبل کی نوید سنا سکتے ہیں۔ جشن ولادت امام مہدی علیہ السلام میں ملکی بقا اور سلامتی کے لیے دعا بھی مانگی گئیں۔