صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایم پی اے سیدہ زہرا نقوی نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کروائی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی سمیت ملک بھر کے دفاتر اور دیگر کام کی جگہوں پر حجاب لازم قرار دیا جائے اور بغیر حجاب کے پنجاب اسمبلی میں خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔
امام ہادی علیه السلام فرماتے ہیں : مَن هانَت عَلَیهِ نَفسُهُ فَلا تَأمَن شَرَّه. ترجمہ: جس شخص کی اپنی نظر میں کوئی قدر و […]
ایرانی چیف جسٹس نے اپنی گفتگو میں مغربی ممالک کی جانب سے ایران میں انسانی حقوق کے بارے کئے جانے والے جھوٹے دعووں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم انسانی حقوق کے دعویداروں پر اپنی جیلوں کے دروازے کھولنے کو تیار ہیں۔ ہم اپنی جیلوں کے دروازے کھول دیں گے تاکہ وہ جس قیدی سے چاہیں ملاقات کریں
آپ دیکھئے کہ اچانک قم میں اشعریین نظر آنے لگے۔ وہ کیوں آئے؟ اشعریین تو عرب ہیں۔ وہ آئے قم۔ قم میں حدیث و اسلامی معارف کا بازار گرم ہو گيا۔ احمد بن اسحاق اور دوسرے افراد نے قم کو اپنا مرکز بنایا۔ ری کے علاقے میں وہ ماحول پیدا ہوا کہ شیخ کلینی جیسی ہستیاں وہاں سے نکلیں۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم نے نوری آباد آکر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد سے ملاقات کی اور کئی گھنٹوں کی گفت و شنید کے بعد مذاکرات کامیاب ہوگئے۔
ایرانی سفیر نے اسرائیل کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے پر جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں کے باوجود ایرانی عوام اسلامی انقلاب کی بیالیسویں سالگرہ منا رہے ہیں، ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران اور پاکستان میں بہت سی مشترکات ہیں اور سب سے بڑی قدر مشترک ہمارا دین ہے۔
مختلف شہروں کا سفر کرنے والا جرمن بلاگر نے پاکستان میں ایک سال گزارنے کے بعددین اسلام سے متأثر ہو کر اسلام قبول کیا ہے۔
شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ شبیر میثمی نے لانگ مارچ سے وفاق ٹائمز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جامشورو میں مذاکرات کا کہا گیا تھا لیکن ابھی تک کسی نے بھی ہم سے رابطہ نہیں کیا ہے اور ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ کراچی میں حالات کو خراب کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے.
انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت اور اسٹبشلمینٹ ماضی میں سیاسی اور دینی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کرتی رہی ہیں، یہ بھی اسی قسم کا ایک اقدام ہے، حکومت کا یہ اقدام دینی تعلیم کے لئے نہیں بلکہ وفاق برائے نفاق ہے۔