غزہ کی خواتین جنگ، بے گھری اور صحت کے نظام کی تباہی کے باعث انسانی بحران کے دہانے پر
























انہوں نے کہا کہ تہران ان شہروں میں سے ہے جن کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ ایرانی قوم کے اندر بہت ساری صلاحیتین موجود ہیں جن میں شجاعت، غیرت، دینداری اور حریت پسندی شامل ہیں۔ یہ ساری خصوصیات تہران کے عوام کے اندر پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک کے اختیارات میں یہ ہے کہ صہیونی حکومت کی شہہ رگ پر چھری رکھیں۔ مسلمان ممالک کو اسرائیل کی مدد کے بجائے اس کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات منقطع کرنا چاہئے۔
انہو ں نے مزید کہاکہ دہشت گردی خطے سمیت پاکستان اور ایران کا مشترکہ مسئلہ ہے جس کے خاتمے کےلئے دونوں ممالک میں مذاکرات کے کئی اعلیٰ سطحی دور ہوئے ہیں،
ہئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ پاکستان کے تحت تعزیتی اجتماع سے مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، مولانا شیخ محمد سلیم، مولانا محمد حسین رئیسی، مولانا شبیر حسین میثمی، مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا سید محمد رضا جعفری، مولانا نعیم الحسن سمیت دیگر نے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کو پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے صہیونی فوجی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق 100 دنوں کی جارحیت میں اب تک 30 ہزار سے زائد فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔
عالم بزرگوار و خدمتگذار حجت الاسلام و المسلمین حاج شیخ محسن نجفی کی رحلت کی خبر نہایت افسوس ناک ہے۔
محافظ قدس جنرل قاسم سلیمانی شہید کی برسی کے موقع پر بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام اسلام کے تحفظ اور مظلوم مسلمانوں کے حقوق کے لیے ایک عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاانی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مزید فرمایا: مزاحمتی محاذ کو مضبوط کرنے کا سلسلہ بدستور جاری رہنا چاہیے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ پاکستان کے عوام بھی لاقانونیت، افراتفری، مہنگائی و بے روزگاری سے تنگ ہیں۔صاحبان اقتدار اپنے قول و فعل سے ثابت کریں کہ آنے والا نیا سال ارض وطن کے لئے داخلی و معاشی، معاشرتی اور اخلاقی استحکام کا باعث ہو گا۔