صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ آج بھی پاکستان میں شرح خواندگی بمشکل 50فیصد سے کچھ بہتر ہے جوغیر تسلی بخش ہے اس کےلئے تعلیم کا سالانہ مختص کیا جانیوالا بجٹ ناکافی اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ زیور تعلیم سے محروم بچوں کو علم کی دولت سے آراستہ کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جاسکیں۔
س1450: یہ جو رائج ہوگیا ہے کہ امام حسین کی عزاداری کے عنوان سے بدن کے گوشت میں سوراخ کرکے اسکے ساتھ تالا اور کلو کا پتھر لٹکاتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟
انہوں نے مذید کہا کہ ہمارے وزیراعظم کو عراقی سربراہ مملکت سے بات کرنا چاہیئے مگر پاکستانیوں کو اس عبادت سے محروم رکھا جا رہا ہے اگر اس مسئلے کا حل نا نکالا گیا تو اسلام آباد کی جانب عوامی مارچ کیا جائے گا ۔ایک طرف لوگ سیلاب میں ڈوبے ہیں دوسری طرف لوگوں کا پیسہ عراقی حکومت کے ظلم کے سبب ڈوب رہا ہے افسوس حکومت کو جو کردار ادا کرنا چاہیئے وہ نہیں کر رہی ہے
فاضل مقررین نے مرجع عالیقدر کی علمی و قلمی زحمات اور دینی و ملی خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دنیائے تشیع میں شہید باقر الصدر رضوان اللہ تعالٰی علیہ اور مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی السیستانی دام ظلہ و دیگر عظیم شخصیات کا جو ڈنکا آج بھی بج رہا ہے تو وہ سب کی سب حضرت آیت اللہ العظمی آقائے خوئی رضوان اللہ تعالٰی علیہ کی شاگردی کا مرہون منت ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین نجفی نے محترم زائرین اربعین کے نام پیغام ارسال کیا ہے۔ جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
زائرین کرام میر جاوہ سے زاہدان اور ریمدان سے چابہار کے شہروں کا رخ کر رہے ہیں جبکہ وہاں سے مشہد مقدس میں امام رضا علیہ السلام اور قم المقدسہ میں حضرت فاطمہ معصومہ س کی زیارت کے بعد اربعین حسینی میں شرکت کے لئے شلمچہ باڈر سے عراق روانہ ہوں گے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک عراقی حکومت نے ایرانیوں کے علاوہ پاکستانی، افغانی اور دیگر ممالک کے زائرین کو ایران سے عراق میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے.
عراق کے دار الافتاء کے ترجمان شیخ عامر البیاتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عراق فلسطین کی فتح کے لئے بدستور ایثار کا مظاہرہ کرتا رہے گا اور ہم اپنی نسلوں کی اسی بنیاد پر پرورش کریں گے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے انقلاب اور جہاد کی حمایت کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ فلسطین کا مسئلہ انتہائی بنیادی مسئلہ ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سزااور جزا ایک عمل ضرورہے مگر ہر قدرتی آفت کو” عذاب “کے زمرے میں ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا، اس میں انسانی نا اہلی، عدم توجہی ، بروقت اقدامات نہ اٹھائے جانے اور پیشگی اطلاعات نہ دینے کے عوامل اور ناقص کارکردگی بھی شامل ہو تی ہے ، گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل سیلاب ، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کا ملک کو سامنا ہے مگر کیا امداد کے سوا کوئی اقدام اٹھایاگیا ؟
کیا بہتر یہ ہے کہ دوبارہ ان مجالس میں شرکت نہ کی جائے یا یہ کہ ان مجالس میں شرکت نہ کرنا اسکی اہل بیت علیھم السلام سے دوری کا سبب ہے؟