صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ان تمام تاخیری حربوں کے پیچھے عراق اور پاکستان حکومت کے درمیان خفیہ معاہدہ ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ لاکھوں ہم وطن اس وقت بے سرو سامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے موجود ہیں جن کا کوئی پُرسان حال نہیں، ایسے وقت میں پوری قوم کو انسانیت کی خدمت و جذبے کے ساتھ میدان خدمت میں پورے عزم کے ساتھ اُترنا ہوگا۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اس وقت سارے سیاسی اختلافات بھلا کر ہم پوری قوم ایک ٹیم کی طرح اس مصیبت میں اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کریں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مختلف وفود سے ملاقات کرتے ہوئے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال پر تبصرہ کرے ہوئے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بارشوں اور سیلاب کے نقصانات سے بچنے کیلئے انتظامات موجود تھے جو بہتر اور کامیاب رہے ۔
تعزیتی پیغام میں کہاکہ عالم دانا حجۃ الاسلام و المسلمین جناب الحاج سید حسن مصطفوی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر میں ان کے معزز خانوادے، ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔
مفتی صاحب کا گھرانہ حکمت و طب میں بہت نامور تھا، ان کے چچا حکیم شہاب الدین جنہیں طب میں مہارت حاصل تھی، ادبی لحاظ سے بھی ایک مقام رکھتے تھے اور انہیں اردو، فارسی، پنجابی میں شاعری سے شغف تھا۔ چچا حکیم شہاب الدین نے ہی جعفر حسین کی پرورش اور تربیت اپنے ذمہ لی تھی۔ کہتے ہیں کہ چچا کی تربیت اور تعلیم جعفر حسین کے قلب و نظر کو پاکیزہ اور روشن کرنے کا سبب بنی۔
مقتدی صدر نے اعلان کیاکہ میں اب اس مظاہرے پر اسی طرح تنقید کر رہا ہوں جس طرح میں نے تشرین کے انقلاب پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنے پر سیکورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ ان حالات سے حشد الشعبی افواج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جرائم پیشہ اور فاسد و بدعنوان بعثیوں اور کرائے کے مزدوروں کو ملک میں اہم عہدوں اور ذمہ داریوں سے ہٹایا جانا چاہئے اور انہیں کسی طور پر طاقت و اقتدار نہ دیا جائے کیونکہ وہ کبھی آپ کی بھلائی نہیں چاہتے اور سوائے اپنے پارٹی کے مفادات اور استعماری آقاؤں اور صیہونیوں اور ان کے آلۂ کاروں کی خدمت کے کچھ بھی نہیں چاہتے۔
یہ واضح ہے کہ اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کے لیے جسمانی صحت اور امت مسلمہ کے مسائل کی رسیدگی کے لئے (جسمانی)طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے لیکن آج بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے میری صحت مناسب نہیں ہے، مجھے لگتا ہے کہ میری بیماری اور صحت کی خرابی مجھے اپنے فرائض کو پورا کرنے سے مانع ہے۔ لہذا میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس کے بعد اس سنگین اور عظیم ذمہ داری کو انجام نہیں دے پاؤں گا۔ میری طرف سے تمام وکالتیں اور ہماری طرف سے یا ہمارے دفاتر کی طرف سے جاری کردہ تمام اجازہ جات کے ساتھ ساتھ وکلاء اور نمائندوں سے کسی بھی قسم کے شرعی حقوق حاصل کرنے کا حق آج کی تاریخ سے کالعدم ہے۔