صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























پروگرام میں مدرسہ معصومہ کی پرنسپل محترمہ ارم عابدی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اس موقع پر محترمہ غزالہ جعفری نے اپنے خطاب میں تربیت اولاد پر زور دیتے ہوۓ کہا کہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی پرورش دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق کریں تاکہ وہ معاشرے کہ مفید رکن بن سکیں ۔
اجلاس میں کہا گیا کہ شتیال سے لیکر گلگت تک کھلے عام اسلحہ کی نمائش، کفر کے فتوے، کافر کافر کی نعرہ بازی اور شرانگیز تقاریر کے ذریعے اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن آغا سید راحت حسین الحسینی، علماء کرام اور امامیہ کونسل کے بابصیرت قائدین نے انتہائی صبر و تحمل اور بردباری سے شرپسندوں کے پلان کو خاک میں ملایا۔
قارئین محترم نابغہ بچے ایسے دماغ کے حامل ہوتے ہیں کہ کم عمر میں ہزاروں قسم کی چیزیں یاد کرلیتے ہیں اور علوم کی مشکلوں کو حل کرتے ہیں اوران کی محیّر العقول صلاحیت لوگوں کو انگشت بہ دندان کردیتی ہے.
حجت الہیٰ کے تکوینی آثار و برکات نظام خلقت اور کائنات کا باقی ہونا ہے۔ یعنی ان کی وجہ سے زمین و آسمان قائم ہیں ۔اسی طرح حجت خدواندی اور انسان کامل کے بغیر کائنات بے معنی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ شیعہ عقائد کے مبانی کی رو سے ہم سب کا اس بات پر پختہ عقیدہ ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام جسمانی طور پر ہمارے درمیان ہیں اور معاشرے کی رہبری فرما رہے ہیں؛ یعنی: آپ علیہ السلام ناشناختہ طور پر معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور لوگ انہیں نہیں پہچان پاتے۔کیونکہ روایات کے مطابق امام علیہ السلام بھی دوسرے لوگوں کی مانند ایک عام اور طبعی زندگی گزار رہے ہیں، ایسی صورت میں کچھ لوگ انہیں دیکھتے بھی ہیں ؛ لیکن پہچانتے نہیں ہیں۔
محقق مہدویت حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہاکہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواحنا لہ الفداء سے اس وقت ملاقات ممکن ہے جب امام علیہ السلام خود چاہیں اور کسی شخص یا فقیہ سے ملاقات کرنے میں آپ خود مصلحت جانیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔اب یہ کہ کوئی شخص جب چاہے، جہاں چاہے امام علیہ السلام کی ملاقات کو جائے اور جو شخص امام علیہ السلام سے اس طرح کی ملاقات کا دعویٰ کرتا ہے وہ کذاب اور جھوٹا ہے۔
نشست کے آغاز میں استاد حوزہ اور محقق مہدویت حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہاکہ اب تک امام زمان علیہ السلام سے جن افراد کی ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ ایک خاص ماحول میں ہوئی ہیں؛ لیکن کچھ لوگ امام زمان علیہ السلام سے ملاقات کا دعویٰ کرکے لوگوں کے عقائد سے سوء استفادہ کرتے ہیں؛ نیز دین اور اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کے سابقہ مدرس اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے چیف اکاؤنٹنٹ حجۃ الاسلام مولانا سید ارشد حسین جعفری انتقال کر گئے ہیں.
شام کے مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسون نے کہا کہ ہمیں توجہ کرنا چاہیے کہ ہمیں امامت کے زیر سایہ رہنا چاہیے نہ خلافت کے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر حضرت علی نہ ہوتے تو دیگر خلفاء بھی نہ ہوتے، امامت قیامت تک باقی رہنے والی چیز ہے لیکن خلافت فنا پذیر ہے۔ جیسا کہ مفتی امامت کے زیر سایہ ہوتا ہے لیکن وزیر خلافت کے زیر سایہ۔